ترکمانستان اور ایران کے ساتھ سرحدی گزرگاہوں پر ہوا طالبان کا کنٹرول

ترکمانستان اور ایران کے ساتھ سرحدی گزرگاہوں پر ہوا طالبان کا کنٹرول

ہفتہ, 10 July, 2021 - 14:30
گزشتہ روز افغانستان کے مغرب میں واقع ہرات کے میں اپنے کھر کے سامنے "ہرات کے شیر" کے نام سے مشہور اسماعیل خان کے حامیوں کو دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی) اور دائرہ میں گزشتہ روز ہرات میں اپنے حامیوں کے ایک اجلاس کے دوران اسماعیل خان کو دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)

طالبان تحریک نے کل افغانستان میں اپنی توسیع کا سلسلہ جاری رکھا ہے اور ایران اور ترکمانستان جیسے پڑوسی ممالک کے ساتھ مزید سرحدی گزرگاہوں کو اپنے کنٹرول میں کرلیا ہے۔


طالبان نے جمعہ کے روز اعلان کیا ہے کہ ان کے جنگجوؤں نے ترکمانستان کے ساتھ ایک بڑے سرحدی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول جما لیا ہے اور اس تحریک کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے نامہ نگاروں کو بتایا ہے کہ اہم ترگنڈی بارڈر کراسنگ پر مکمل طور پر قابو پالیا گیا ہے جبکہ افغان وزارت داخلہ کے ترجمان طارق عريان کا کہنا ہے کہ کراسنگ پر موجود سیکیورٹی فورسز کو عارضی طور پر منتقل کر دیا گیا ہے اور اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس پر دوبارہ قابو پانے کی کوششیں شروع کردی گئیں ہیں۔
 
گزشتہ روز بھی طالبان نے ایران کے ساتھ افغانستان کے لئے سب سے اہم سرحدی گزرگاہ اسلام قلعے پر اپنے کنٹرول کا اعلان کیا ہے اور ان کے جنگجوؤں نے اپنے ملک سے امریکی افواج کے انخلا کے ساتھ ہی متنازعہ حملہ شروع کر دیا ہے اور اس عبور کو افغانستان میں اہم ترین عبور سمجھا جاتا ہے اور ایران کے ساتھ زیادہ تر جائز تجارت اسی سے گزرتی ہے۔(۔۔۔)


ہفتہ 30 ذی قعدہ 1442 ہجرى – 10 جولا‏ئی 2021ء شماره نمبر [15565]


انتخاباتِ مدير

ملٹی میڈیا