"طالبان" کی پیشرفت ہوئی مستحکم اور لندن شروط کے ساتھ اس کے ساتھ معاملہ کر سکتا ہے

"طالبان" کی پیشرفت ہوئی مستحکم اور لندن شروط کے ساتھ اس کے ساتھ معاملہ کر سکتا ہے

جمعرات, 15 July, 2021 - 14:30
پاکستان کے ساتھ اسپن بولدک بارڈر کراسنگ پر طالبان کے لہراتے ہوئے جھنڈے (سفید) کو دیکھا جا سکتا ہے (ای پی اے)
ایسا لگتا ہے کہ "طالبان" تحریک نے امریکی انخلا کے ساتھ ہی افغانستان کے علاقوں میں اپنی پیشرفت کو تقویت بخشی ہے کیونکہ گزشتہ روز اس تحریک نے اعلان کیا ہے کہ اس نے پاکستان کے ساتھ اس اسٹریٹجک بارڈر کراسنگ پر کنٹرول کرلیا ہے جس سے روزانہ 900 ٹرک عبور کرتے ہیں اور یہ کراسنگ قندھار شہر کے جنوب میں واقع ہے اور یہ ملک کے جنوب مغرب اور پاکستان کی بندرگاہوں کے مابین ایک اہم ربط کا کام کرتا ہے۔

ایک پاکستانی عہدیدار نے بتایا ہے کہ جنگجوؤں نے پاکستانی شہر چامان اور افغان شہر ویچ کے مابین بارڈر کراسنگ پر "فرینڈشپ گیٹ" سے افغان حکومت کا جھنڈا نیچے اتار دیا ہے۔


کراس پر طالبان کے قبضے اور وش کے پار افغان فورسز کے ساتھ شدید لڑائی کے بعد پاکستان کو اپنی سرحد کے کچھ حصے کو بند کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔


ایک متعلقہ سیاق وسباق میں برطانوی وزیر دفاع بین والیس نے اعلان کیا ہے کہ اگر حکومت میں داخل ہوئی اور انسانی حقوق کا احترام کیا تو ان کا ملک افغانستان میں "طالبان" کے ساتھ معاملہ کرے گا۔(۔۔۔)


جمعرات 05 ذی الحجہ 1442 ہجرى – 15 جولا‏ئی 2021ء شماره نمبر [15570]


انتخاباتِ مدير

ملٹی میڈیا