تیونس: سڑک تقسیم ہوگئی ہے اور نہضہ کا کوئی اتحادی نہیں ہے

تیونس: سڑک تقسیم ہوگئی ہے اور نہضہ کا کوئی اتحادی نہیں ہے

منگل, 27 July, 2021 - 09:15
گزشتہ روز تیونس کی پارلیمنٹ کی عمارت کے سامنے نہضہ کے حامیوں اور سیکیورٹی فورسز کے مابین تصادم کے ایک منظر کو دیکھا جا سکتا ہے (رائٹرز)
گزشتہ دو روز کے دوران پارلیمنٹ کا تختہ الٹنے، اس کے متنازعہ اسپیکر راشد غنوشی اور وزیر اعظم ہشام المشیشی کو برطرف کرنے کا باعث بننے والے تیونس کے صدر قیص سعید کے ان فیصلوں نے کئی سالوں سے سیاسی منظر نامے کی قیادت کرنے والی نہضہ تحریک اتحادیوں کے بغیر چھوڑ دیا ہے اور اس کی وجہ سے تیونس کے معاشرے اور سڑکوں پر بھی بڑا تفرقہ دیکھا گیا ہے۔

ان تقسیمات میں اور شدت اس وقت پیدا ہوگئی جب صدر سعید نے کل وزیر دفاع ابراہیم البرتاجی اور قائم مقام وزیر انصاف حسن بن سلیمان کو برخاست کردیا اور صدارتی سیکیورٹی کے ڈائریکٹر جو ان کے قریب ہیں وزارت داخلہ کی نگرانی کے لئے ذمہ دار بنا دیا۔


گزشتہ روز صدر سعید کے حامیوں اور نہضہ کے متعدد حامیوں اور پارلیمنٹ کے سامنے جھڑپیں شروع ہوئیں اور دارالحکومت میں باردو کے علاقے میں پارلیمنٹ کے صدر دفتر کے سامنے فوجی فورسز تعینات ہو گئیں اور وہاں داخل ہونے سے روک دیا جبکہ صدر کے سیکڑوں حامیوں نے نہضہ کے حامیوں کو ان کے رہنما غنوشی سے رابطہ کرنے سے روکا جو پارلیمنٹ کے سامنے ایک کار کے اندر بند ہیں اور دونوں فریقوں نے ایک دوسرے پر پتھراؤ کیا۔(۔۔۔)


منگل 17 ذی الحجہ 1442 ہجرى – 27 جولا‏ئی 2021ء شماره نمبر [15582]


انتخاباتِ مدير

ملٹی میڈیا