لبنانی حکومت بنانے کے لیے مشاورت کو بچانے کے لیے فرانس نے اپنے وزن کے ساتھ مداخلت کیا ہے جبکہ صدر مایکل عون کی درخواست کے نتیجے میں یہ معاملہ پیچیدہ ہونے کو تھا کیونکہ صدر عون نے اس حکومت کے آدھے اراکین کا مطالبہ کیا تھا جس کی تشکیل کا ارادہ نامزد وزیر اعظم نجیب میقاتی 24 وزیروں کے ساتھ رکھتے ہیں جبکہ پٹرول کا بحران ایک جلتے ہوئے مادے میں بدل گیا جس کی وجہ سے کل (پیر) شمالی لبنان میں تین اموات اور متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
سیاسی ذرائع نے الشرق الاوسط کو بتایا ہے کہ میقاتی اس وقت حیران ہو گئے جب مذاکرات کے آخری سیشن میں ان کو معلوم ہوا کہ عون نے پچھلے سیشن میں جو وعدہ کیا تھا اسے ختم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں کیونکہ انہوں نے اس حکومت کے آدھے ارکان یعنی 24 میں سے 12 وزراء کا مطالبہ کر لیا تھا جس کی وجہ سے وہ محکموں میں وزراء کے نام تلاش کرنے کو منجمد کرنے پر مجبور ہوئے جبکہ اس سلسلہ میں پوری تفصیل پیش کی تھی اور ان کو اس کے جواب کا انتظار تھا تاکہ محکموں پر وزراء کے نام تقسیم کئے جائیں۔(۔۔۔)
منگل 01 محرم الحرام 1443 ہجرى – 10 اگست 2021ء شماره نمبر [15596]