طالبان کو معاشی بحران کے ساتھ ساتھ حقوق نسواں کے مطالبات کا بھی سامنا ہے

طالبان کو معاشی بحران کے ساتھ ساتھ حقوق نسواں کے مطالبات کا بھی سامنا ہے

جمعہ, 3 September, 2021 - 14:45
ہرات کے احتجاج میں شریک ایک خاتون کو کل "طالبان" تحریک کے ایک رکن سے بات کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)
نئی افغان حکومت کے متوقع اعلان کے موقع پر  توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ کیا طالبان حقیقت میں ایک جامع حکومت تشکیل دے پائیں گے جو ایک ایسی معیشت کو سنبھال سکے گی جو جنگ سے تباہ ہونے کے بعد تباہی کے خطرے میں ہے۔

کل طالبان نے اعلان کیا ہے کہ وہ نئی حکومت بنانے کے قریب ہے جبکہ تحریک کے دو ذرائع نے فرانسیسی نیوز ایجنسی کو بتایا ہے کہ حکومت کا اعلان نماز جمعہ (آج) کے بعد ہوسکتا ہے اور جہاں تک رائٹرز کا تعلق ہے تو اس نے اشارہ کیا ہے کہ "طالبان" کے عہدیدار احمد اللہ متقی نے کہا ہے کہ کابل میں صدارتی محل میں حکومت کا اعلان کرنے کی تقریبات کی تیاری جاری ہے۔


حکومت کی تشکیل ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب افغان معیشت تباہی کے خطرے سے دوچار ہے اور اور وادی پنجشیر میں پناہ لینے والے "طالبان" کے جانی دشمن سابق نائب صدر امر اللہ صالح نے خبردار کیا ہے کہ معیشت کا خاتمہ اور خدمات کی کمی لوگوں کو بہت جلد متاثر کرے گی اور انہوں نے تحریک سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپ کے ہتھیاروں اور پرتشدد طریقوں سے مزاحمت اور لوگوں کے غصے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔(۔۔۔)


جمعہ 25 محرم الحرام 1443 ہجرى – 03 ستمبر 2021ء شماره نمبر [15620]


انتخاباتِ مدير

ملٹی میڈیا