ایک طرف اقوام متحدہ کے ایک عہدیدار نے سابق افغان افواج کے خلاف طالبان کے قتل کے معتبر الزامات کی طرف اشارہ کیا ہے تو دوسری طرف اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اس بات پر زور دیا ہے کہ 11 ملین کمزور افغانوں کو ان کے انتہائی خطرناک وقت میں لائف لائن فراہم کرنے میں ان کی مدد کی جائے۔
جرمن نیوز ایجنسی کے مطابق گوٹیرس نے کل دوپہر کے بعد کہا ہے کہ افغانستان کی حمایت میں ڈونرز کانفرنس جو جنیوا میں منعقد ہوئی ہے ایک ارب ڈالر سے زائد کا عطیہ اکٹھا کرنے میں کامیاب ہوئی ہے اور اسی وجہ سے یہ افغان عوام کے ساتھ یکجہتی کے حوالے سے توقعات پر پوری اتر آئی ہے اور اقوام متحدہ کا اندازہ ہے کہ افغانستان کو خوراک کے بحران اور عوامی خدمات کے خاتمے سے بچنے کے لیے اس سال کے آخر تک 600 ملین ڈالر سے زیادہ کی ضرورت ہے۔(۔۔۔)
منگل 06 صفر المظفر 1443 ہجرى – 14 ستمبر 2021ء شماره نمبر [15631]