ایران اور آذربائیجان کی کشیدگی ... اور روس کے موقف کی طرف نگاہیں لگیں

ایران اور آذربائیجان کی کشیدگی ... اور روس کے موقف کی طرف نگاہیں لگیں

بدھ, 6 October, 2021 - 09:45
آذربائیجان کی سرحد کے قریب ایرانی ٹینکوں کو دیکھا جا سکتا ہے (رائٹرز)
ایران اور آذربائیجان کے درمیان کشیدگی کل بھی جاری رہی ہے اور ساتھ ہی روس کے موقف کی طرف نگاہی لگی رہی ہیں اور باکو میں عرب سفارتی ذرائع نے کل الشرق الاوسط کو بتایا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان فوجی تصادم کئی عوامل کی وجہ سے ہونے والے ہیں اور ان میں روس کی جانب سے سبز روشنی کی موجودگی بھی ہے جو کھیل کے اصولوں کے اہم پہلوؤں کو کنٹرول کررہا ہے۔

ایرانی "تسنیم" ایجنسی کے مطابق باکو نے ایرانی سپریم لیڈر علی خامنئی کے نمائندے کے دفتر سے منسلک ایک دفتر بند کر دیا تھا اور ایجنسی نے مزید کہا کہ مسجد اور دفتر آذربائیجانی حکام کے حکم سے بند کیا گیا تھا۔


دوسری طرف ایجنسی "سپوتنک آذربائیجان" نے اطلاع دی ہے کہ ایران نے اپنی فضائی حدود آذربائیجانی جنگی طیاروں کے لیے بند کر دی ہے جو نخچیوان خطے میں سامان بھیجتا ہے اور وہ آرمینیا کے پیچھے واقع ہے۔


حالیہ دنوں میں دونوں ممالک کے مابین کشیدگی بڑھ گئی ہے کیونکہ ایران نے آذربائیجان کی سرحدوں پر مشقیں شروع کر دی ہے جو آج ترکی کے ساتھ نخچیون میں مشقیں شروع کرنے کو ہے جس میں سہ فریقی مشقوں کے بعد پاکستان نے بھی حصہ لیا ہے اور تہران نے باکو پر اسرائیلی موجودگی کے دروازے کھولنے کا الزام لگایا ہے جس کی باکو اور تل ابیب نے تردید کی ہے۔


ایرانی جوہری فائل سب سے نمایاں فائل تھی جس کے بارے میں امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے اپنے وائٹ ہاؤس میں ایرانی جوہری خطرے سے نمٹنے کے لیے قائم ہونے والے دوطرفہ فورم کی پہلی ملاقات کے دوران گزشتہ روز اپنے اسرائیلی ہم منصب ایال ہولٹا کے ساتھ تبادلہ خیال کیا ہے۔


اسرائیل اور امریکہ کے فوج ، سفارتی اور انٹیلی جنس اداروں کے نمائندوں نے فورم کے اجلاسوں میں شرکت کی ہے اور عہدیداروں کے مطابق اس ملاقات نے ایرانی جوہری پروگرام کے بارے میں انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کی اجازت دی ہے تاکہ پروگرام کی ترقی کی حد کا اندازہ لگایا جا سکے۔(۔۔۔)


بدھ - 29 صفر المظفر 1443 ہجری - 06 اكتوبر 2021ء شمارہ نمبر [15653]


انتخاباتِ مدير

ملٹی میڈیا