بیروت کی جھڑپوں سے جنگ کے خواہاں باگ اٹھے ہیںhttps://urdu.aawsat.com/home/article/3252396/%D8%A8%DB%8C%D8%B1%D9%88%D8%AA-%DA%A9%DB%8C-%D8%AC%DA%BE%DA%91%D9%BE%D9%88%DA%BA-%D8%B3%DB%92-%D8%AC%D9%86%DA%AF-%DA%A9%DB%92-%D8%AE%D9%88%D8%A7%DB%81%D8%A7%DA%BA-%D8%A8%D8%A7%DA%AF-%D8%A7%D9%B9%DA%BE%DB%92-%DB%81%DB%8C%DA%BA
"حزب اللہ" اور "امل" سے وابستہ جنگجوؤں کو کل بیروت میں فوج کے سامنے سے گزرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)
بیروت: «الشرق الأوسط»
TT
TT
بیروت کی جھڑپوں سے جنگ کے خواہاں باگ اٹھے ہیں
"حزب اللہ" اور "امل" سے وابستہ جنگجوؤں کو کل بیروت میں فوج کے سامنے سے گزرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)
بیروت کی بندرگاہ کے دھماکے کی جاری تحقیقات پر تنازع کی وجہ سے لبنان میں سیاسی کشیدگی کل لبنانی دارالحکومت میں جھڑپوں میں بدل گئی جس نے دو علاقوں کے درمیان فرقہ وارانہ کردار اختیار کر لیا اور خانہ جنگی کے متوالوں کو بیدار کر دیا اور خاص طور پر سنہ 1975 میں جن جھڑپوں سے جنگ کی شروعات ہوئی تھی وہ انہیں دونوں علاقوں سے شروع ہوئی تھی۔
جھڑپیں اس وقت ہوئیں جب شیعہ جوڑی ("امل" اور "حزب اللہ") کے حامی انصاف محل کی طرف جا رہے تھے تاکہ تحریک اور پارٹی کی طرف سے بلائے گئے مظاہرے میں شامل ہو سکیں جو "امل" تحریک سے وابستہ دو سابق وزراء کے خلاف جج طارق البیطار کے فیصلوں کے خلاف احتجاج کر رہے تھے اور جھڑپوں کے نتیجے میں 6 افراد ہلاک اور کم از کم 30 دیگر زخمی ہوئے ہیں جس میں مشین گن، گولے اور سنائپر رائفلیں استعمال کی گئیں ہیں اور عین الرمانہ نامی عیسائی اکثریتی محلوں اور الشیاح نامی شیعی اکثریتی محلوں کو علیحدہ کرنے والا طیونہ نامی علاقہ ایک حقیقی میدان جنگ بن گیا جہاں لبنانی فوج اور سول ڈیفنس نے بار بار مداخلت کرتے ہوئے شہریوں کو نکالنے اور عسکریت پسندوں کے درمیان تنازعات کو روکنے کے لیے مداخلت کی ہے۔(۔۔۔)
فرانس اسرائیلیوں کے ساتھ یکجہتی کرتا ہے، لیکن غزہ کی صورتحال کو "غیر منصفانہ" سمجھتا ہے: فرانسیسی وزیر خارجہ سیگورنٹ کا بیانhttps://urdu.aawsat.com/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%D9%8A%DA%BA/4846456-%D9%81%D8%B1%D8%A7%D9%86%D8%B3-%D8%A7%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%8C%D9%84%DB%8C%D9%88%DA%BA-%DA%A9%DB%92-%D8%B3%D8%A7%D8%AA%DA%BE-%DB%8C%DA%A9%D8%AC%DB%81%D8%AA%DB%8C-%DA%A9%D8%B1%D8%AA%D8%A7-%DB%81%DB%92%D8%8C-%D9%84%DB%8C%DA%A9%D9%86-%D8%BA%D8%B2%DB%81-%DA%A9%DB%8C-%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA%D8%AD%D8%A7%D9%84-%DA%A9%D9%88-%D8%BA%DB%8C%D8%B1-%D9%85%D9%86%D8%B5%D9%81%D8%A7%D9%86%DB%81-%D8%B3%D9%85%D8%AC%DA%BE%D8%AA%D8%A7-%DB%81%DB%92
فرانسیسی وزیر خارجہ سٹیفن سیگورنٹ (ایکس پلیٹ فارم پر ان کا اکاؤنٹ سے لی گئی تصویر)
پیرس:«الشرق الأوسط»
TT
پیرس:«الشرق الأوسط»
TT
فرانس اسرائیلیوں کے ساتھ یکجہتی کرتا ہے، لیکن غزہ کی صورتحال کو "غیر منصفانہ" سمجھتا ہے: فرانسیسی وزیر خارجہ سیگورنٹ کا بیان
فرانسیسی وزیر خارجہ سٹیفن سیگورنٹ (ایکس پلیٹ فارم پر ان کا اکاؤنٹ سے لی گئی تصویر)
فرانسیسی وزیر خارجہ، جنہوں نے ایک ہفتہ قبل مشرق وسطیٰ کا دورہ کیا تھا، نے روزنامہ "اویسٹ فرانس" کو بیان دیتے ہوئے زور دیا کہ فرانس "حقیقی صدمہ" پہنچنے والے اسرائیلیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتا ہے، لیکن وہ غزہ کی صورتحال کو "غیر منصفانہ" سمجھتا ہے۔
فرانسیسی وزیر اسٹیفن سیگورنٹ نے ہفتے کے روز شائع ہونے والے انٹرویو کے دوران کہا: "ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ 7 اکتوبر کے بعد اب اسرائیلی معاشرہ پہلے جیسا نہیں رہا۔" انہوں نے مزید کہا: "مجھے اس کا احساس نہیں ہوا جب تک میں خود وہاں گیا۔"
سیگورنٹ نے کہا کہ میں یہ "فرض" سمجھتا ہوں کہ "اسرائیلیوں کا صدمہ حقیقی ہے۔" (...)
نیتن یاہو نے بائیڈن کو نظر انداز کر دیا... اور "خون کی ہولی" کھیلنے کا اندیشہhttps://urdu.aawsat.com/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%D9%8A%DA%BA/4845071-%D9%86%DB%8C%D8%AA%D9%86-%DB%8C%D8%A7%DB%81%D9%88-%D9%86%DB%92-%D8%A8%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%88%D9%86-%DA%A9%D9%88-%D9%86%D8%B8%D8%B1-%D8%A7%D9%86%D8%AF%D8%A7%D8%B2-%DA%A9%D8%B1-%D8%AF%DB%8C%D8%A7-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%AE%D9%88%D9%86-%DA%A9%DB%8C-%DB%81%D9%88%D9%84%DB%8C-%DA%A9%DA%BE%DB%8C%D9%84%D9%86%DB%92-%DA%A9%D8%A7-%D8%A7%D9%86%D8%AF%DB%8C%D8%B4%DB%81
فلسطینی جمعہ کے روز غزہ کی پٹی میں دیر البلح پر اسرائیلی حملے کے مقام پر زندہ بچ جانے والوں اور متاثرین کی تلاش کر رہے ہیں (اے پی)
تل ابیب:«الشرق الأوسط»
TT
تل ابیب:«الشرق الأوسط»
TT
نیتن یاہو نے بائیڈن کو نظر انداز کر دیا... اور "خون کی ہولی" کھیلنے کا اندیشہ
فلسطینی جمعہ کے روز غزہ کی پٹی میں دیر البلح پر اسرائیلی حملے کے مقام پر زندہ بچ جانے والوں اور متاثرین کی تلاش کر رہے ہیں (اے پی)
غزہ کی پٹی پر جنگ کے حوالے سے واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کے اشاروں کی روشنی میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کل (بروز جمعہ) اعلان کیا کہ انہوں نے مصر کی سرحد کے ساتھ پٹی کے انتہائی جنوب میں اسرائیلی حملے کو وسعت دینے کی کوشش میں اپنی فوج سے کہا ہے کہ وہ رفح سے شہریوں کے "انخلاء" کا منصوبہ تیار کریں۔
نیتن یاہو کا یہ اقدام صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے لیے ایک چیلنج دکھائی دیتا ہے جسے خدشہ ہے کہ رفح میں اسرائیلی آپریشن بڑی تعداد میں ہلاکتوں کا باعث بنے گا۔ اسی طرح انسانی ہمدردی کی ایجنسیوں کو بھی اس علاقے میں "خون کی ہولی" کھیلے جانے کا اندیشہ ہے، جہاں اس وقت تقریباً 1.4 ملین افراد رہائش پذیر ہیں، جن میں زیادہ تر وہ افراد ہیں جو غزہ کی پٹی کے دیگر علاقوں سے بے گھر ہونے کے بعد یہاں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ (...)
بائیڈن کا ایران پر 3 امریکی فوجیوں کے قتل میں ملوث ہونے کا الزام... اور جواب دینے کا عزمhttps://urdu.aawsat.com/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%D9%8A%DA%BA/4820656-%D8%A8%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%88%D9%86-%DA%A9%D8%A7-%D8%A7%DB%8C%D8%B1%D8%A7%D9%86-%D9%BE%D8%B1-3-%D8%A7%D9%85%D8%B1%DB%8C%DA%A9%DB%8C-%D9%81%D9%88%D8%AC%DB%8C%D9%88%DA%BA-%DA%A9%DB%92-%D9%82%D8%AA%D9%84-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D9%85%D9%84%D9%88%D8%AB-%DB%81%D9%88%D9%86%DB%92-%DA%A9%D8%A7-%D8%A7%D9%84%D8%B2%D8%A7%D9%85-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%AC%D9%88%D8%A7%D8%A8-%D8%AF%DB%8C%D9%86%DB%92-%DA%A9%D8%A7-%D8%B9%D8%B2%D9%85
بائیڈن کا ایران پر 3 امریکی فوجیوں کے قتل میں ملوث ہونے کا الزام... اور جواب دینے کا عزم
امریکی صدر جو بائیڈن (اے پی)
امریکی صدر جو بائیڈن نے کل (اتوار) کو شام کی سرحد کے قریب شمال مشرقی اردن میں تعینات امریکی افواج پر ڈرون حملے میں 3 امریکی فوجیوں کی ہلاکت اور دیگر کے زخمی ہونے کا اعلان کیا۔
بائیڈن نے "وائٹ ہاؤس" سے جاری اپنے بیان میں کہا کہ یہ حملہ ایران کے حمایت یافتہ مسلح گروپوں نے کیا جو شام اور عراق میں کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ واشنگٹن ابھی معاملے کی تحقیقات کر رہا ہے اور حملے کے بارے میں حقائق جمع کر رہا ہے۔ بائیڈن نے یقین دہانی کی کہ ان کا ملک امریکی فوجیوں کے قتل اور زخمی کرنے میں ملوث "تمام ذمہ داروں" کو "مناسب وقت اور طریقے سے" جواب دے گا۔
اسی طرح آج امریکی ایوان نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن نے بھی امریکی فوجیوں کے قتل کی مذمت کی اور "X" پلیٹ فارم پر کہا کہ امریکی انتظامیہ کو دنیا کو ایک "مضبوط پیغام" دینا چاہیے کہ امریکی افواج کے خلاف حملوں کا جواب ہر صورت دیا جائے گا۔(...)