نئے سوڈانی خودمختار کونسل نے بین الاقوامی اور مغربی خدشات کو پیدا کیا ہے۔

البرھان کو خرطوم میں ٹرائیکا ممالک کے نمائندوں کے ساتھ گزشتہ ملاقات کے دوران دیکھا جا سکتا ہے (سونا)
البرھان کو خرطوم میں ٹرائیکا ممالک کے نمائندوں کے ساتھ گزشتہ ملاقات کے دوران دیکھا جا سکتا ہے (سونا)
TT

نئے سوڈانی خودمختار کونسل نے بین الاقوامی اور مغربی خدشات کو پیدا کیا ہے۔

البرھان کو خرطوم میں ٹرائیکا ممالک کے نمائندوں کے ساتھ گزشتہ ملاقات کے دوران دیکھا جا سکتا ہے (سونا)
البرھان کو خرطوم میں ٹرائیکا ممالک کے نمائندوں کے ساتھ گزشتہ ملاقات کے دوران دیکھا جا سکتا ہے (سونا)
سوڈان کے ساتھ تعلق رکھنے والے "ٹرائیکا" ممالک یعنی امریکہ، برطانیہ اور ناروے نے یورپی یونین کے ممالک اور سوئٹزرلینڈ کے ساتھ مذمت کرتے ہوئے غیر معمولی مشترکہ پوزیشن کے طور پر ملک میں ایک نئی خودمختار کونسل تشکیل دینے کے سلسلہ میں سوڈانی آرمی چیف لیفٹیننٹ جنرل عبد الفتاح البرہان کے اعلان پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور اس میں فرانس اور اقوام متحدہ اور افریقی یونین کے درمیان مشترکہ ٹاسک فورسز بھی شامل ہے جس نے غیر قانونی طور پر تمام افراد کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا بھی مطالبہ کیا ہے اور ان میں عبوری حکومت کے سربراہ عبد اللہ حمدوک بھی ہیں۔

امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی طرف سے نشر کیے گئے مشترکہ بیان میں جمعرات کو جو کچھ ہوا ہے اسے 2019 کے آئینی دستاویز کی خلاف ورزی کے طور پر بیان کیا گیا ہے کیونکہ یہ یکطرفہ ہے اور  اس سے متفقہ قانونی فریم ورک کا احترام کرنے کے لیے فوج کے عزم کو نقصان پہنچا ہے اور اس کے علاوہ جمہوری طور پر منتقلی کے عمل کو بحال کرنے کے لیے کی جانے والی کوششیں پیچیدہ ہو چکی ہیں۔(۔۔۔)

ہفتہ - 08 ربیع الثانی 1443 ہجری - 13 نومبر 2021ء شمارہ نمبر [15690]