خرطوم میں ریپبلکن محل کے اردگرد مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے درمیان مارپیٹ

خرطوم میں صدارتی محل کے دروازے کے سامنے مظاہرین کو کل سیکیورٹی رکاوٹوں کو عبور کرنے کے بعد دیکھا جاسکتا ہے (ا۔ب۔ا)
خرطوم میں صدارتی محل کے دروازے کے سامنے مظاہرین کو کل سیکیورٹی رکاوٹوں کو عبور کرنے کے بعد دیکھا جاسکتا ہے (ا۔ب۔ا)
TT

خرطوم میں ریپبلکن محل کے اردگرد مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے درمیان مارپیٹ

خرطوم میں صدارتی محل کے دروازے کے سامنے مظاہرین کو کل سیکیورٹی رکاوٹوں کو عبور کرنے کے بعد دیکھا جاسکتا ہے (ا۔ب۔ا)
خرطوم میں صدارتی محل کے دروازے کے سامنے مظاہرین کو کل سیکیورٹی رکاوٹوں کو عبور کرنے کے بعد دیکھا جاسکتا ہے (ا۔ب۔ا)

کل، سوڈان میں بڑے پیمانے پر مظاہرے دیکھنے میں آئے ہیں، جہاں مظاہرین پہلی بار صدارتی محل اور اس کی طرف جانے والے راستوں کے ارد گرد بڑی حفاظتی رکاوٹوں کو توڑ دیا ہے، جبکہ پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی جانب سے مظاہرین پر براہ راست بھاری گولیاں اور آنسو گیس کے شیل برسائے گئے، جس میں  گولیوں سے کم از کم دو افراد سمیت بہت سے زخمی ہوگئے ہیں۔
محل کے اردگرد مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے درمیان مارپیٹ کے واقعات کل دیر شام تک جاری رہے، جبکہ عوامی تحریک کی قیادت کرنے والی "مزاحمتی کمیٹیوں" نے مظاہرین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اقتدار کے عام شہریوں کے حوالے کئے جانے تک محل کے سامنے دھرنا دیتے رہیں۔(...)
 



مالی کا الجزائر پر دشمنانہ کاروائیاں کرنے اور اس کے معاملات میں مداخلت کرنے کا الزام

مالی کے فوجی حکمران کرنل عاصیمی گوئٹا (ایکس پلیٹ فارم پر مالی پریذیڈنسی اکاؤنٹ)
مالی کے فوجی حکمران کرنل عاصیمی گوئٹا (ایکس پلیٹ فارم پر مالی پریذیڈنسی اکاؤنٹ)
TT

مالی کا الجزائر پر دشمنانہ کاروائیاں کرنے اور اس کے معاملات میں مداخلت کرنے کا الزام

مالی کے فوجی حکمران کرنل عاصیمی گوئٹا (ایکس پلیٹ فارم پر مالی پریذیڈنسی اکاؤنٹ)
مالی کے فوجی حکمران کرنل عاصیمی گوئٹا (ایکس پلیٹ فارم پر مالی پریذیڈنسی اکاؤنٹ)

کل جمعرات کے روز افریقی ملک مالی کی حکمران عسکری کمیٹی نے الجزائر پر دشمنانہ کاروائیاں کرنے اور ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے کا الزام عائد کیا۔

"روئٹرز" کے مطابق، عسکری کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ اس نے علیحدگی پسندوں کے ساتھ 2015 کا الجزائر امن معاہدہ فوری طور پر ختم کر دیا ہے۔ الجزائر کی حکومت کے قریبی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ وہ باماکو کے فوجی حکمران کرنل عاصیمی گوئٹا کے روس کی ملیشیا "وگنر" کے ساتھ اتحاد سے پریشان ہے۔ گزشتہ نومبر میں مالی میں ملیشیا کی طرف سے تکنیکی اور لاجسٹک مدد سے شروع کیے گئے ایک اچانک حملے میں مالی کی افواج نے کیدال شہر پر قبضہ کر لیا تھا، جب کہ کیدال، شمال میں ایک الگ ریاست کے قیام کا مطالبہ کرنے والی مسلح اپوزیشن کا ایک اہم گڑھ شمار ہوتا ہے۔

انہی ذرائع کے مطابق، الجزائر اس پیش رفت کو مالی میں تنازعے کے دونوں فریقوں کے مابین 2015 میں اپنی سرزمین پر دستخط کیے گئے "امن معاہدے کی خلاف ورزی" شمار کرتا ہے۔ اسی طرح اپوزیشن کے شہروں پر کرنل گوئٹا کی پیش قدمی اور جدید فوجی آلات کا استعمال کرتے ہوئے اپنی فوجی مہم کے دوران اسے "ویگنر" کے زیر کنٹرول دینے کو بین الاقوامی ثالثی کی کوششوں کو کمزور کرنا شمار کرتا ہے، اور خیال رہے کہ الجزائر اس ثالثی کا سربراہ ہے۔

اس مہینے کے آغاز میں کرنل گوئٹا نے اندرونی تصفیہ کے عمل کے حوالے سے بیانات دیئے، جس سے یہ سمجھا گیا کہ وہ "امن معاہدے" اور ہر طرح کی ثالثی سے دستبردار ہو رہے ہیں۔

جمعہ-14 رجب 1445ہجری، 26 جنوری 2024، شمارہ نمبر[16495]