اومیکرون مخالف کوششوں میں غیر ویکسین والوں کو نشانہ بنایا جائے گا

اومیکرون کو 27 دسمبر 2021 کو کورونا کے سلسلہ میں ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)
اومیکرون کو 27 دسمبر 2021 کو کورونا کے سلسلہ میں ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)
TT

اومیکرون مخالف کوششوں میں غیر ویکسین والوں کو نشانہ بنایا جائے گا

اومیکرون کو 27 دسمبر 2021 کو کورونا کے سلسلہ میں ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)
اومیکرون کو 27 دسمبر 2021 کو کورونا کے سلسلہ میں ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)
ایک ایسے وقت میں جب دنیا کے ممالک میں کورونا وائرس کے "اومیکرون" نامی وبا کے انفیکشن میں غیر معمولی اضافہ دیکھا جا رہا ہے، حکومتوں نے اپنی توجہ ان لوگوں پر مرکوز کرنے کا انتخاب کیا ہے جنہوں نے ویکسین کو مسترد کردیا ہے اور انہیں اپنی پوزیشنوں میں ترمیم کرنے پر راضی کرنے اور معاشروں میں وبا کے پھیلاؤ کو محدود کرنے کی کوششوں کی حمایت شروع کی ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنے شہریوں سے ویکسین کی دونوں خوراکیں اور بوسٹر ڈوز لینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ "کورونا" وبائی بیماری اب بھی غیر ویکسین شدہ لوگوں کی وبا ہے اور انہوں نے نشانہ بھی کیا ہے کہ غیر ویکسین شدہ ہسپتال کے بستروں پر قابض ہیں اور ایمرجنسی رومز اور انتہائی نگہداشت کے یونٹ ان سے بھرے ہوئے ہیں اور بائیڈن نے کہا کہ ویکسین کی کثرت کے باوجود 35 ملین امریکیوں کو ابھی تک ویکسین نہیں ملی ہے اور انہوں نے مزید کہا کہ جو لوگ ویکسین لینے سے انکار کر رہے ہیں ان کے لیے  ابکوئی بہانہ نہیں ہے۔(۔۔۔)

جمعرات  03 جمادی الآخر 1443 ہجری  - 06  جنوری  2021ء شمارہ نمبر[15745]



آسٹریلیا نے لبنان میں اسرائیلی حملے میں اپنے 2 شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔

اسرائیل کی سرحد پار جاری کشیدگی کے دوران اسرائیلی بمباری کے بعد جنوبی لبنان میں دھواں اٹھ رہا ہے (اے ایف پی)
اسرائیل کی سرحد پار جاری کشیدگی کے دوران اسرائیلی بمباری کے بعد جنوبی لبنان میں دھواں اٹھ رہا ہے (اے ایف پی)
TT

آسٹریلیا نے لبنان میں اسرائیلی حملے میں اپنے 2 شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔

اسرائیل کی سرحد پار جاری کشیدگی کے دوران اسرائیلی بمباری کے بعد جنوبی لبنان میں دھواں اٹھ رہا ہے (اے ایف پی)
اسرائیل کی سرحد پار جاری کشیدگی کے دوران اسرائیلی بمباری کے بعد جنوبی لبنان میں دھواں اٹھ رہا ہے (اے ایف پی)

آسٹریلیا نے آج جمعرات کے روز تصدیق کی کہ اس کے دو شہری جنوبی لبنان کو نشانہ بنانے والے اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے ہیں۔ اس نے نشاندہی کی کہ وہ "حزب اللہ" کے ان دعوں کی تحقیقات کر رہا ہے کہ ان میں سے ایک کا تعلق مسلح گروپ سے تھا۔

آسٹریلیا کے قائم مقام وزیر خارجہ مارک ڈریفس نے ایک پریس کانفرنس میں کہا: "ہم اس خاص شخص سے متعلق تحقیقات جاری رکھیں گے جس کے بارے میں حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس سے منسلک تھا۔"

انہوں نے مزید کہا: "حزب اللہ نے اعلان کیا ہے کہ یہ آسٹریلوی اس کے جنگجوؤں میں سے ایک ہے، جس پر ہماری تحقیقات جاری ہیں۔"

ڈریفس نے نشاندہی کی کہ "حزب اللہ آسٹریلیا میں درج شدہ ایک دہشت گرد تنظیم ہے،" اور کسی بھی آسڑیلوی شہری کے لیے اسے مالی مدد فراہم کرنا یا اس کی صفوں میں شامل ہو کر لڑنا جرم شمار پوتا ہے۔

خیال رہے کہ یہ اسرائیلی حملہ منگل کی شام دیر گئے ہوا جس میں بنت جبیل قصبے میں ایک گھر کو نشانہ بنایا گیا، جب کہ اس قصبے میں ایرانی حمایت یافتہ "حزب اللہ" گروپ کو وسیع سپورٹ حاصل ہے۔

ڈریفس نے کہا کہ آسٹریلوی حکومت نے اس حملے کے بارے میں اسرائیل سے رابطہ کیا تھا، لیکن انہوں نے اس دوران ہونے والی بات چیت کا ظاہر کرنے سے انکار کر دیا۔

انہوں نے لبنان میں آسٹریلوی باشندوں پر زور دیا کہ وہ ملک چھوڑ دیں کیونکہ ابھی بھی تجارتی پروازوں کی آپشن موجود ہے۔

یاد رہے کہ اکتوبر میں غزہ میں اسرائیل اور تحریک "حماس" کے مابین جنگ شروع ہونے کے بعد سے "حزب اللہ" لبنان کی جنوبی سرحد کے پار اسرائیل کے ساتھ تقریباً روزانہ کی بنیاد پر فائرنگ کا تبادلہ کرتی ہے۔

جمعرات-15 جمادى الآخر 1445ہجری، 28 دسمبر 2023، شمارہ نمبر[16466]