جرمنی شامیوں کے لیے انصاف کی تاریخ لکھنا شروع کر رہا ہے

جرمنی شامیوں کے لیے انصاف کی تاریخ لکھنا شروع کر رہا ہے

جمعہ, 14 January, 2022 - 13:30
کل شام کے سابق انٹیلی جنس افسر انور رسلان (دائیں) کو جرمن شہر کوبلنز کی عدالت میں دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)
کل جرمنی نے شامیوں کے لیے انصاف کی تاریخ میں پہلی سطر لکھا ہے اور خاص طور پر قیدیوں اور بے گھر افراد کے لئے ہوا ہے جیسا کہ اس کی عدلیہ نے ایک سابق افسر کو عمر قید کی سزا سنائی ہے جو انسانیت کے خلاف کے الزام میں انٹیلی جنس کی تحقیقاتی شاخ کا انچارج تھا۔

انسانی حقوق کے کارکنوں اور شامی وکلاء نے منحرف شامی افسر انور رسلان کے خلاف جاری ہونے والے فیصلے کو ایک ایسی نظیر کے طور پر بیان کیا ہے  جس نے شامیوں کے لیے انصاف کے حصول کی امید بحال کی ہے اور مغربی جرمنی کے شہر کوبلنز کی ایک عدالت نے رسلان کو انسانیت کے خلاف جرائم اور ہزاروں قیدیوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کے الزام اور ان میں سے 27 کو تشدد کا نشانہ بنانے کے سبب میں 15 سال بعد رہائی کے امکان کے ساتھ عمر قید کی سزا سنائی ہے اور یہ اس وقت ہوا جب وہ دمشق میں برانچ 251 میں تحقیقاتی شعبے کا ذمہ دار تھا جسے شامی انٹیلی جنس کی الخطیب برانچ کہا جاتا ہے۔(...)


جمعہ  11 جمادی الآخر 1443 ہجری  - 14  جنوری  2021ء شمارہ نمبر[15753]  


انتخاباتِ مدير

ملٹی میڈیا