عراق میں "داعش" کے حملے ہوئے شروع اور شام میں اس کی بغاوت کا ہوا آغازhttps://urdu.aawsat.com/home/article/3429401/%D8%B9%D8%B1%D8%A7%D9%82-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%AF%D8%A7%D8%B9%D8%B4-%DA%A9%DB%92-%D8%AD%D9%85%D9%84%DB%92-%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92-%D8%B4%D8%B1%D9%88%D8%B9-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B4%D8%A7%D9%85-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A7%D8%B3-%DA%A9%DB%8C-%D8%A8%D8%BA%D8%A7%D9%88%D8%AA-%DA%A9%D8%A7-%DB%81%D9%88%D8%A7-%D8%A2%D8%BA%D8%A7%D8%B2
عراق میں "داعش" کے حملے ہوئے شروع اور شام میں اس کی بغاوت کا ہوا آغاز
عراقی فوج کے سپاہیوں کو دیکھا جا سکتا ہے (واع)
گزشتہ روز بغداد کے شمال مشرق میں دیالی گورنریٹ میں عراقی فوج کے کیمپ پر داعش کے حملے اور مشرقی شام کی ایک جیل میں تنظیم کی بغاوت کا آغاز ہوا ہے اور بیرون ملک اپنے ساتھیوں کی حمایت سے فرار ہونے کی کوشش بھی ہوئی ہے جس کی وجہ سے عراق میں نئے خدشات ظاہر ہوئے ہیں اور مفرور داعش کی دراندازی کو روکنے کے لیے اس کی افواج سرحد پر موجود ہیں۔
عراقی مسلح افواج کے کمانڈر انچیف یحییٰ رسول کے ترجمان کے مطابق وزیر اعظم اور مسلح افواج کے کمانڈر انچیف مصطفیٰ الکاظمی نے دہشت گردی کے واقعے کی فوری تحقیقات کی ہدایت کی ہے جس کے نتیجے میں ایک افسر سمیت 11 فوجی مارے گئے ہیں اور یہ دیالی گورنریٹ میں ضلع العظیم کے علاقے ام الکرامی میں ہوا ہے۔(۔۔۔)
مالی کا الجزائر پر دشمنانہ کاروائیاں کرنے اور اس کے معاملات میں مداخلت کرنے کا الزامhttps://urdu.aawsat.com/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%D9%8A%DA%BA/4814066-%D9%85%D8%A7%D9%84%DB%8C-%DA%A9%D8%A7-%D8%A7%D9%84%D8%AC%D8%B2%D8%A7%D8%A6%D8%B1-%D9%BE%D8%B1-%D8%AF%D8%B4%D9%85%D9%86%D8%A7%D9%86%DB%81-%DA%A9%D8%A7%D8%B1%D9%88%D8%A7%D8%A6%DB%8C%D8%A7%DA%BA-%DA%A9%D8%B1%D9%86%DB%92-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%A7%D8%B3-%DA%A9%DB%92-%D9%85%D8%B9%D8%A7%D9%85%D9%84%D8%A7%D8%AA-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D9%85%D8%AF%D8%A7%D8%AE%D9%84%D8%AA-%DA%A9%D8%B1%D9%86%DB%92-%DA%A9%D8%A7-%D8%A7%D9%84%D8%B2%D8%A7%D9%85
مالی کا الجزائر پر دشمنانہ کاروائیاں کرنے اور اس کے معاملات میں مداخلت کرنے کا الزام
مالی کے فوجی حکمران کرنل عاصیمی گوئٹا (ایکس پلیٹ فارم پر مالی پریذیڈنسی اکاؤنٹ)
کل جمعرات کے روز افریقی ملک مالی کی حکمران عسکری کمیٹی نے الجزائر پر دشمنانہ کاروائیاں کرنے اور ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے کا الزام عائد کیا۔
"روئٹرز" کے مطابق، عسکری کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ اس نے علیحدگی پسندوں کے ساتھ 2015 کا الجزائر امن معاہدہ فوری طور پر ختم کر دیا ہے۔ الجزائر کی حکومت کے قریبی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ وہ باماکو کے فوجی حکمران کرنل عاصیمی گوئٹا کے روس کی ملیشیا "وگنر" کے ساتھ اتحاد سے پریشان ہے۔ گزشتہ نومبر میں مالی میں ملیشیا کی طرف سے تکنیکی اور لاجسٹک مدد سے شروع کیے گئے ایک اچانک حملے میں مالی کی افواج نے کیدال شہر پر قبضہ کر لیا تھا، جب کہ کیدال، شمال میں ایک الگ ریاست کے قیام کا مطالبہ کرنے والی مسلح اپوزیشن کا ایک اہم گڑھ شمار ہوتا ہے۔
انہی ذرائع کے مطابق، الجزائر اس پیش رفت کو مالی میں تنازعے کے دونوں فریقوں کے مابین 2015 میں اپنی سرزمین پر دستخط کیے گئے "امن معاہدے کی خلاف ورزی" شمار کرتا ہے۔ اسی طرح اپوزیشن کے شہروں پر کرنل گوئٹا کی پیش قدمی اور جدید فوجی آلات کا استعمال کرتے ہوئے اپنی فوجی مہم کے دوران اسے "ویگنر" کے زیر کنٹرول دینے کو بین الاقوامی ثالثی کی کوششوں کو کمزور کرنا شمار کرتا ہے، اور خیال رہے کہ الجزائر اس ثالثی کا سربراہ ہے۔
اس مہینے کے آغاز میں کرنل گوئٹا نے اندرونی تصفیہ کے عمل کے حوالے سے بیانات دیئے، جس سے یہ سمجھا گیا کہ وہ "امن معاہدے" اور ہر طرح کی ثالثی سے دستبردار ہو رہے ہیں۔