الصدر کے مخالفین کے پاس دو راستے ہیں: مخالفت یا بائیکاٹhttps://urdu.aawsat.com/home/article/3437511/%D8%A7%D9%84%D8%B5%D8%AF%D8%B1-%DA%A9%DB%92-%D9%85%D8%AE%D8%A7%D9%84%D9%81%DB%8C%D9%86-%DA%A9%DB%92-%D9%BE%D8%A7%D8%B3-%D8%AF%D9%88-%D8%B1%D8%A7%D8%B3%D8%AA%DB%92-%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D9%85%D8%AE%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%AA-%DB%8C%D8%A7-%D8%A8%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%A9%D8%A7%D9%B9
الصدر کے مخالفین کے پاس دو راستے ہیں: مخالفت یا بائیکاٹ
کل عراقی وفاقی عدالت کے اجلاس کے ایک منظر کو دیکھا جا سکتا ہے (ای بی اے)
بغداد: فاضل النشمی
TT
TT
الصدر کے مخالفین کے پاس دو راستے ہیں: مخالفت یا بائیکاٹ
کل عراقی وفاقی عدالت کے اجلاس کے ایک منظر کو دیکھا جا سکتا ہے (ای بی اے)
عراق میں وفاقی سپریم کورٹ کی طرف سے اس ماہ کی نو تاریخ کو منعقد ہونے والے پارلیمنٹ کے پہلے اجلاس کی قانونی حیثیت کی منظوری کے بعد سنی رہنما، ترقی اتحاد کے رہنما محمد الحلبوسی کو پارلیمنٹ کا اسپیکر اور دو کو ان کا نائب منتخب کیا گیا ہے جن میں سے پہلے مقتدا الصدر کی قیادت میں صدر تحریک کی طرف سے اور دوسرا مسعود بارزانی کی قیادت میں کردستان ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے ہیں اور اب الصدر کے مخالفین کے پاس دو راستے ہیں یا تو پارلیمنٹ میں اپوزیشن کے پاس جائیں یا پورے سیاسی عمل کا بائیکاٹ کریں۔
وفاقی عدالت نے اس ماہ کی 13 تاریخ کو انتخابی نتائج کی توثیق کے دو ہفتے بعد اسے منعقد کرنے کے لیے جمہوریہ کے حکم نامے کے اجراء کے بعد نئی پارلیمنٹ کے پہلے اجلاس کے طریقہ کار کو عارضی طور پر معطل کرنے کا فیصلہ جاری کیا ہے اور پارلیمان کے سب سے پرانے اسپیکر محمود المشہدانی اور باسم خاشان کے نمائندوں نے سیشن کے انعقاد سے متعلق حالات کے حوالے سے عدالت میں دو اپیلیں دائر کی ہے جن میں بھگدڑ مچی جس کی وجہ سے المشہدانی کو بے ہوشی کے بعد ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔(۔۔۔)
دی ہیگ میں "نسل کشی" کے الزام کے بارے میں اسرائیلی تشویشhttps://urdu.aawsat.com/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%D9%8A%DA%BA/4785126-%D8%AF%DB%8C-%DB%81%DB%8C%DA%AF-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D9%86%D8%B3%D9%84-%DA%A9%D8%B4%DB%8C-%DA%A9%DB%92-%D8%A7%D9%84%D8%B2%D8%A7%D9%85-%DA%A9%DB%92-%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DB%92-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A7%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%8C%D9%84%DB%8C-%D8%AA%D8%B4%D9%88%DB%8C%D8%B4
دی ہیگ میں "نسل کشی" کے الزام کے بارے میں اسرائیلی تشویش
بین الاقوامی عدالت انصاف کے پینل نے کل دی ہیگ میں جنوبی افریقہ کی طرف سے اسرائیل کے خلاف دائر کردہ "نسل کشی" کے مقدمے کی سماعت کا آغاز کیا (ای پی اے)
جنوبی افریقہ کی طرف سے دی ہیگ میں بین الاقوامی عدالت انصاف کے سامنے اسرائیل کے خلاف دائر کیے گئے مقدمے کے نتائج کے بارے میں اسرائیلی حکومت میں تشویش پائی جاتی ہے۔ اقوام متحدہ کے اعلیٰ ترین عدالتی ادارے کی نمائندگی کرنے والی اس عدالت، جس کا صدر دفتر دی ہیگ میں ہے، نے کل جمعرات کے روز سے سماعت کا آغاز کیا جو دو دن تک جاری رہے گی۔
پریٹوریا نے عبرانی ریاست پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے غزہ کی پٹی میں "نسل کشی کی روک تھام" معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے اور جو اسرائیل غزہ کی پٹی میں کر رہا ہے اس کا جواز 7 اکتوبر 2023 کو تحریک "حماس" کی طرف سے شروع کیے گئے حملے ہرگز نہیں ہو سکتے۔
جنوبی افریقہ نے عدالت میں دائر 84 صفحات پر مشتمل شکایت میں ججوں پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کو غزہ کی پٹی میں "فوری طور پر اپنی فوجی کاروائیاں بند کرنے" کا حکم دیں۔ کیونکہ اس کا یہ خیال ہے کہ اسرائیل نے "غزہ میں فلسطینی عوام کے خلاف نسل کشی کی کاروائیاں کی ہیں، وہ کر رہا ہے اور آئندہ بھی جاری رکھ سکتا ہے۔" عدالت میں جنوبی افریقہ کے وفد کی وکیل عدیلہ ہاشم نے کہا کہ "عدالت کے پاس پہلے ہی سے پچھلے 13 ہفتوں کے دوران جمع شدہ شواہد موجود ہیں جو بلاشبہ اس کے طرز عمل اور ارادوں کو ظاہر کرتے ہوئے نسل کشی کے معقول الزام کو جواز بناتے ہیں۔" (...)
جمعہ-30 جمادى الآخر 1445ہجری، 12 جنوری 2024، شمارہ نمبر[16481]