ماسکو اور واشنگٹن سفارت کاری کے دروازے کھلے رکھے ہوئے ہیںhttps://urdu.aawsat.com/home/article/3443476/%D9%85%D8%A7%D8%B3%DA%A9%D9%88-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D9%88%D8%A7%D8%B4%D9%86%DA%AF%D9%B9%D9%86-%D8%B3%D9%81%D8%A7%D8%B1%D8%AA-%DA%A9%D8%A7%D8%B1%DB%8C-%DA%A9%DB%92-%D8%AF%D8%B1%D9%88%D8%A7%D8%B2%DB%92-%DA%A9%DA%BE%D9%84%DB%92-%D8%B1%DA%A9%DA%BE%DB%92-%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92-%DB%81%DB%8C%DA%BA
ماسکو اور واشنگٹن سفارت کاری کے دروازے کھلے رکھے ہوئے ہیں
بائیڈن انتظامیہ کا خیال ہے کہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر تعزیراتی اقدامات مسلط کرنا انتہائی موثر اور تباہ کن ہو سکتا ہے (رائٹرز)
ماسکو کو کل سرد مہری کا سامنا اس وقت کرنا پڑا جب واشنگٹن نے اس کے اہم سیکورٹی مطالبات کی طرف توجہ نہ دیا اور دونوں فریق سفارت کاری کے دروازے کھلے رکھنے کے خواہشمند ہیں اور بدھ کے روز ماسکو کو نیٹو کے ساتھ ساتھ واشنگٹن کی طرف سے انروسی مطالباتکو مسترد کئے جانے کی اطلاع ملی ہے جن میں نیٹو کی توسیع کی پالیسی کو ختم کرنے اور 1997 میں ان سرحدوں پر اپنی افواج کو دوبارہ تعینات کرنے کا ذکر ہے۔
کل کرملین نے امریکی ردعمل کے بارے میں کہا ہے کہ اس میں روسی خدشات کو مدنظر نہیں رکھا گیا ہے جبکہ وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے مزید آگے بڑھتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ امریکی دستاویز میں مشرق میں نیٹو کی توسیع کے بارے میں درپیش بنیادی سوال کا کوئی مثبت جواب نہیں شامل ہے اور لاوروف نے یہ بھی کہا ہے کہ واشنگٹن اور نیٹو نے روسی فریق کے خدشات کا جواب نہیں دیا ہے اور اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ دستاویز کے مواد میں ایسے جوابات شامل ہیں جن کی وجہ سے ایک سنجیدہ بات چیت شروع کرنے کی امید پیدا ہو رہی ہے لیکن یہ صرف معمولی اہمیت کے مسائل کے سلسلہ میں ہے۔(۔۔۔)