ویانا کے مذاکرات سچائی کے لمحے میں ہیں

کل جرمن چانسلر اولاف شولز کو میونخ سیکیورٹی کانفرنس میں تقریر کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)
کل جرمن چانسلر اولاف شولز کو میونخ سیکیورٹی کانفرنس میں تقریر کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)
TT

ویانا کے مذاکرات سچائی کے لمحے میں ہیں

کل جرمن چانسلر اولاف شولز کو میونخ سیکیورٹی کانفرنس میں تقریر کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)
کل جرمن چانسلر اولاف شولز کو میونخ سیکیورٹی کانفرنس میں تقریر کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)
جرمن چانسلر اولاف شولز نے خبردار کیا ہے کہ جوہری معاہدے کی بحالی کے امکانات کم ہوتے جا رہے ہیں اور اس بات پر بھی زور دیا کہ ایرانی حکام کے لیے سچائی کا لمحہ آ گیا ہے۔

شولز نے میونخ سیکیورٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب ہمارے پاس ایک ایسے معاہدے تک پہنچنے کا موقع ہے جس سے پابندیاں ہٹانے کا موقع ملے گا لیکن اگر ہم بہت جلد کامیاب نہ ہوئے تو مذاکرات ناکام ہو سکتے ہیں اور یاد رہے کہ ایرانی حکام کے پاس ایک انتخاب ہے اور ابھی سچائی کا لمحہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے گزشتہ دس مہینوں میں ویانا مذاکرات میں ایک طویل سفر طے کیا ہے اور مذاکرات کو مکمل کرنے کے لیے تمام ضروری عناصر میز پر ہیں اور انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ ایران کے لیے یورینیم کی افزودگی جاری رکھنا اور ساتھ ہی بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی نگرانی کو معطل کرنا ناقابل قبول ہے۔(۔۔۔)

اتوار 19 رجب المرجب  1443 ہجری  - 20  فروری  2022ء شمارہ نمبر[15790]     



آسٹریلیا نے لبنان میں اسرائیلی حملے میں اپنے 2 شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔

اسرائیل کی سرحد پار جاری کشیدگی کے دوران اسرائیلی بمباری کے بعد جنوبی لبنان میں دھواں اٹھ رہا ہے (اے ایف پی)
اسرائیل کی سرحد پار جاری کشیدگی کے دوران اسرائیلی بمباری کے بعد جنوبی لبنان میں دھواں اٹھ رہا ہے (اے ایف پی)
TT

آسٹریلیا نے لبنان میں اسرائیلی حملے میں اپنے 2 شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔

اسرائیل کی سرحد پار جاری کشیدگی کے دوران اسرائیلی بمباری کے بعد جنوبی لبنان میں دھواں اٹھ رہا ہے (اے ایف پی)
اسرائیل کی سرحد پار جاری کشیدگی کے دوران اسرائیلی بمباری کے بعد جنوبی لبنان میں دھواں اٹھ رہا ہے (اے ایف پی)

آسٹریلیا نے آج جمعرات کے روز تصدیق کی کہ اس کے دو شہری جنوبی لبنان کو نشانہ بنانے والے اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے ہیں۔ اس نے نشاندہی کی کہ وہ "حزب اللہ" کے ان دعوں کی تحقیقات کر رہا ہے کہ ان میں سے ایک کا تعلق مسلح گروپ سے تھا۔

آسٹریلیا کے قائم مقام وزیر خارجہ مارک ڈریفس نے ایک پریس کانفرنس میں کہا: "ہم اس خاص شخص سے متعلق تحقیقات جاری رکھیں گے جس کے بارے میں حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس سے منسلک تھا۔"

انہوں نے مزید کہا: "حزب اللہ نے اعلان کیا ہے کہ یہ آسٹریلوی اس کے جنگجوؤں میں سے ایک ہے، جس پر ہماری تحقیقات جاری ہیں۔"

ڈریفس نے نشاندہی کی کہ "حزب اللہ آسٹریلیا میں درج شدہ ایک دہشت گرد تنظیم ہے،" اور کسی بھی آسڑیلوی شہری کے لیے اسے مالی مدد فراہم کرنا یا اس کی صفوں میں شامل ہو کر لڑنا جرم شمار پوتا ہے۔

خیال رہے کہ یہ اسرائیلی حملہ منگل کی شام دیر گئے ہوا جس میں بنت جبیل قصبے میں ایک گھر کو نشانہ بنایا گیا، جب کہ اس قصبے میں ایرانی حمایت یافتہ "حزب اللہ" گروپ کو وسیع سپورٹ حاصل ہے۔

ڈریفس نے کہا کہ آسٹریلوی حکومت نے اس حملے کے بارے میں اسرائیل سے رابطہ کیا تھا، لیکن انہوں نے اس دوران ہونے والی بات چیت کا ظاہر کرنے سے انکار کر دیا۔

انہوں نے لبنان میں آسٹریلوی باشندوں پر زور دیا کہ وہ ملک چھوڑ دیں کیونکہ ابھی بھی تجارتی پروازوں کی آپشن موجود ہے۔

یاد رہے کہ اکتوبر میں غزہ میں اسرائیل اور تحریک "حماس" کے مابین جنگ شروع ہونے کے بعد سے "حزب اللہ" لبنان کی جنوبی سرحد کے پار اسرائیل کے ساتھ تقریباً روزانہ کی بنیاد پر فائرنگ کا تبادلہ کرتی ہے۔

جمعرات-15 جمادى الآخر 1445ہجری، 28 دسمبر 2023، شمارہ نمبر[16466]