پوٹن کی جنگ بڑھ رہی ہے اور یوکرین اور مغربی مزاحمت بھی تیز ہو رہی ہے

یوکرائنی فوجی کو کل کیف میں روسی فوج کے ساتھ تصادم کے مقام پر دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی) دائرہ میں یوکرین کے صدر کو ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی تقریر میں اپنے شہریوں سے مزاحمت کی اپیل کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)
یوکرائنی فوجی کو کل کیف میں روسی فوج کے ساتھ تصادم کے مقام پر دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی) دائرہ میں یوکرین کے صدر کو ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی تقریر میں اپنے شہریوں سے مزاحمت کی اپیل کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)
TT

پوٹن کی جنگ بڑھ رہی ہے اور یوکرین اور مغربی مزاحمت بھی تیز ہو رہی ہے

یوکرائنی فوجی کو کل کیف میں روسی فوج کے ساتھ تصادم کے مقام پر دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی) دائرہ میں یوکرین کے صدر کو ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی تقریر میں اپنے شہریوں سے مزاحمت کی اپیل کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)
یوکرائنی فوجی کو کل کیف میں روسی فوج کے ساتھ تصادم کے مقام پر دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی) دائرہ میں یوکرین کے صدر کو ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی تقریر میں اپنے شہریوں سے مزاحمت کی اپیل کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)
روس کے صدر ولادیمیر پوٹن نے کل یوکرین میں اپنی جنگ کو بڑھایا ہے لیکن ان کی افواج کو سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے کیونکہ مغرب، جس کی نمائندگی نیٹو ممالک نے کی ہے اس نے یوکرین کے لیے اپنی عسکری حمایت کو تیز کر دیا ہے اور روس کو بینکنگ ایکسچینج پلیٹ فارم "Swift" سے خارج کرنے کا ارادہ کیا ہے۔

حملے کے خلاف بڑھتے ہوئے روسی مخالفت کے باوجود ماسکو نے اپنی افواج کو یوکرین میں ہر سمت سے پیش قدمی کا حکم دیا ہے جبکہ بظاہر کھلی جنگ کا سامنا کر رہے کییف نے مکمل کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے اور حکام نے روسی حملے میں 198 شہریوں کی ہلاکت کا اعلان کیا ہے اور ایجنسی فرانس پریس کے مطابق یوکرین کی فوج نے کہا ہے کہ اس نے دارالحکومت پر حملے کو پسپا کر دیا ہے کیونکہ وہ ان روسی تخروی گروپوں سے لڑ رہی ہے جو شہر میں گھس آئے ہں۔(۔۔۔)

اتوار 26 رجب المرجب  1443 ہجری  - 27  فروری  2022ء شمارہ نمبر[15797]