امریکی صدر جو بائیڈن نے کل روس سے تیل کی درآمد پر پابندی لگانے کا اعلان کیا ہے اور یہ ان کی انتظامیہ کی طرف سے ابھی تک یوکرین پر حملے کی وجہ سے ماسکو کو سزا دینے کے لیے سخت ترین اقدام اٹھایا گیا ہے اور یوکرین پر روسی حملے سے شروع ہونے والی "توانائی کی فراہمی کی جنگ" کے ساتھ برطانوی وزیر برائے کاروبار اور توانائی کواسی کوارٹنگ نے بھی اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک 2022 کے آخر تک خام تیل اور روسی پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد بند کر دے گا۔
بائیڈن نے کہا ہے کہ پابندی امریکی اتحادیوں کے ساتھ قریبی ہم آہنگی میں لگائی گئی ہے اور انہوں نے مزید کہا کہ ہم پوٹن کی جنگ میں حصہ نہیں ڈالیں گے اور بائیڈن نے یہ بھی کہا کہ ان کا ملک روسی معیشت کی اہم شریان کو نشانہ بنارہا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ امریکی عوام پوٹن کی جنگی مشین کو ایک اور سخت دھچکا لگائیں گے۔(۔۔۔)
بدھ 06 شعبان المعظم 1443 ہجری - 09 مارچ 2022ء شمارہ نمبر[75]