ایک طرف امریکی صدر جو بائیڈن نے کل جمعہ کے دن روس کے خلاف اقدامات کو کشیدہ کرتے ہوئے اس کے ساتھ تجارتی تعلقات ختم کرنے کا اعلان کیا ہے اور یوکرین میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی صورت میں بھاری قیمت چکانے کی بھی دھمکی دی ہے اور دوسری طرف روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے کییف جنگ کے قریب آتے ہی کھلے طور پر غیر ملکی ضاکاروں کے استعمال کا اعلان کیا ہے۔
کل ایک تقریر میں بائیڈن نے تجارتی لین دین میں روس کے لیے سب سے زیادہ پسندیدہ قوم کا درجہ ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے اس کے لیے ان دوسرے ممالک کے ساتھ نمٹنا مشکل ہو جائے گا جو عالمی معیشت کا نصف حصہ ہیں اور یہ روسی معیشت کے لیے ایک اور زبردست دھچکا ہوگآ جو پہلے ہی ہماری عائد کردہ پابندیوں سے بہت زیادہ متاثر ہے۔(۔۔۔)
ہفتہ 09 شعبان المعظم 1443 ہجری - 12 مارچ 2022ء شمارہ نمبر[15810]