ایک طرف سعودی عرب نے عالمی سطح پر تیل کے شعبے میں سرمایہ کاری میں کمی کے رجحان سے نمٹنے کا مطالبہ کیا ہے تو دوسری طرف تیل نکالنے کے لیے سرمایہ کاری میں تیزی سے کمی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی تناؤ میں اضافہ ہو گیا ہے کیونکہ فی الحال معطل یوکرائنی بحران سے توانائی کی قیمتوں میں بے مثال سطح تک اضافے کی روشنی میں صاف توانائی کو تیز کرنے کی کوششوں کے ایک حقیقی امتحان کا اظہار ہو رہا ہے۔
گزشتہ دسمبر میں سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبد العزیز بن سلمان نے خبردار کیا تھا کہ اگر تیل کے شعبے میں سرمایہ کاری میں مسلسل کمی آتی رہی تو دنیا توانائی کے بحران کی طرف بڑھ جائے گی اور یہ سرمایہ کاری توانائی کی سپلائی کو برقرار رکھنے اور پیداواری کی صلاحیت کو بڑھانے کا واحد راستہ ہے جس کی مارکیٹ کو ضرورت ہوگی۔(۔۔۔)
جمعرات 14 شعبان المعظم 1443 ہجری - 17 مارچ 2022ء شمارہ نمبر[15815]