روس کے صدر ولادیمیر پوٹن نے ایک ماہ قبل یوکرین میں شروع کیے گئے فوجی آپریشن کو روکنے کے لیے دوبارہ اپنے ملک کی شرائط کا تذکرہ کیا ہے اور یہ خبر اپنے امریکی ہم منصب جو بائیڈن کی برسلز آمد کے موقع پر یورپ کے دورے کے آغاز میں اتحادیوں کو متحرک کرنے کے ساتھ سامنے آئی ہے۔
پوٹن نے گزشتہ روز جرمن چانسلر اولاف شولز کے ساتھ فون کال کے دوران یوکرین کے وفد کے ساتھ ان کے ملک کے مذاکرات کے فریم ورک کے اندر اصولی موقف پر زور دیا ہے۔
یوکرین کے بڑے شہروں کے ارد گرد خاص طور پر کھارکیو اور ماریوپول میں مسلسل روسی فوجی دباؤ کے ساتھ ساتھ یوکرین کے ان مذاکرات کاروں کے خلاف روسی تنقید میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے جنہیں روسی وزارت خارجہ نے "یوکرین کی نمائندگی نہ کرنے اور واشنگٹن سے احکامات وصول کرنے کے طور پر بیان کیا ہے۔(۔۔۔)
جمعرات 21 شعبان المعظم 1443 ہجری - 24 مارچ 2022ء شمارہ نمبر[15822]