بائیڈن یوکرین کی سرحدوں پر ہیں اور پوتن نے پہلا مرحلہ کیا مکمل https://urdu.aawsat.com/home/article/3555376/%D8%A8%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%88%D9%86-%DB%8C%D9%88%DA%A9%D8%B1%DB%8C%D9%86-%DA%A9%DB%8C-%D8%B3%D8%B1%D8%AD%D8%AF%D9%88%DA%BA-%D9%BE%D8%B1-%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D9%BE%D9%88%D8%AA%D9%86-%D9%86%DB%92-%D9%BE%DB%81%D9%84%D8%A7-%D9%85%D8%B1%D8%AD%D9%84%DB%81-%DA%A9%DB%8C%D8%A7-%D9%85%DA%A9%D9%85%D9%84
بائیڈن یوکرین کی سرحدوں پر ہیں اور پوتن نے پہلا مرحلہ کیا مکمل
صدر بائیڈن کو گزشتہ روز یوکرین کی سرحد کے قریب جنوب مشرقی پولینڈ کے شہر زیزو میں امریکی فوجیوں کے ساتھ سیلفی لیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)
برسلز میں شدید سفارتی بات چیت کے ایک دور کے بعد امریکی صدر جو بائیڈن پولینڈ کی سرحد سے یوکرین کے اسٹیج پر نمودار ہوئے ہیں اور موصوف اس ملک کے دو روزہ دورے پر ہیں جہاں ایک ماہ میں 20 لاکھ سے زیادہ مہاجرین آئے ہیں اور یہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب روسی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے گزشتہ ماہ صدر ولادیمیر پوٹن کی طرف سے شروع کی گئی اپنی فوجی مہم کا پہلا مرحلہ مکمل کر لیا ہے۔
کل (جمعہ) بائیڈن نے جیززو شہر کے قریب پولینڈ میں تعینات امریکی فوجیوں کا معائنہ کیا ہے اور انہوں نے بار بار فوجیوں کا شکریہ ادا کیا ہے اور ایک مختصر تقریر میں کہا کہ آپ جمہوری اور آمرانہ حکومتوں کے درمیان لڑائی کے درمیان ہیں اور آپ جو کررہے ہیں وہ بہت اہم ہے اور واقعی اہم ہے اور انہوں نے مزید کہا صدر پوٹن جنگی مجرم ہے۔(۔۔۔)
دی ہیگ میں "نسل کشی" کے الزام کے بارے میں اسرائیلی تشویشhttps://urdu.aawsat.com/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%D9%8A%DA%BA/4785126-%D8%AF%DB%8C-%DB%81%DB%8C%DA%AF-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D9%86%D8%B3%D9%84-%DA%A9%D8%B4%DB%8C-%DA%A9%DB%92-%D8%A7%D9%84%D8%B2%D8%A7%D9%85-%DA%A9%DB%92-%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DB%92-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A7%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%8C%D9%84%DB%8C-%D8%AA%D8%B4%D9%88%DB%8C%D8%B4
دی ہیگ میں "نسل کشی" کے الزام کے بارے میں اسرائیلی تشویش
بین الاقوامی عدالت انصاف کے پینل نے کل دی ہیگ میں جنوبی افریقہ کی طرف سے اسرائیل کے خلاف دائر کردہ "نسل کشی" کے مقدمے کی سماعت کا آغاز کیا (ای پی اے)
جنوبی افریقہ کی طرف سے دی ہیگ میں بین الاقوامی عدالت انصاف کے سامنے اسرائیل کے خلاف دائر کیے گئے مقدمے کے نتائج کے بارے میں اسرائیلی حکومت میں تشویش پائی جاتی ہے۔ اقوام متحدہ کے اعلیٰ ترین عدالتی ادارے کی نمائندگی کرنے والی اس عدالت، جس کا صدر دفتر دی ہیگ میں ہے، نے کل جمعرات کے روز سے سماعت کا آغاز کیا جو دو دن تک جاری رہے گی۔
پریٹوریا نے عبرانی ریاست پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے غزہ کی پٹی میں "نسل کشی کی روک تھام" معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے اور جو اسرائیل غزہ کی پٹی میں کر رہا ہے اس کا جواز 7 اکتوبر 2023 کو تحریک "حماس" کی طرف سے شروع کیے گئے حملے ہرگز نہیں ہو سکتے۔
جنوبی افریقہ نے عدالت میں دائر 84 صفحات پر مشتمل شکایت میں ججوں پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کو غزہ کی پٹی میں "فوری طور پر اپنی فوجی کاروائیاں بند کرنے" کا حکم دیں۔ کیونکہ اس کا یہ خیال ہے کہ اسرائیل نے "غزہ میں فلسطینی عوام کے خلاف نسل کشی کی کاروائیاں کی ہیں، وہ کر رہا ہے اور آئندہ بھی جاری رکھ سکتا ہے۔" عدالت میں جنوبی افریقہ کے وفد کی وکیل عدیلہ ہاشم نے کہا کہ "عدالت کے پاس پہلے ہی سے پچھلے 13 ہفتوں کے دوران جمع شدہ شواہد موجود ہیں جو بلاشبہ اس کے طرز عمل اور ارادوں کو ظاہر کرتے ہوئے نسل کشی کے معقول الزام کو جواز بناتے ہیں۔" (...)
جمعہ-30 جمادى الآخر 1445ہجری، 12 جنوری 2024، شمارہ نمبر[16481]