عرب ریاستوں کی لیگ کے سکریٹری جنرل احمد ابو الغیط نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ویانا میں جاری جوہری مذاکرات کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ مفاہمت سے ایرانی جوہری خطرہ ختم ہونے کو نہیں ہے اور ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عرب سرزمین میں اپنی مہم جوئیوں کو روکے اور عرب مسائل کو مغربی دنیا اور اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کے لئے کارڈز کے طور پر استعمال کرنا بند کرے۔
نیویارک میں اپنے قیام کے دوران الشرق الاوسط کے ساتھ ایک انٹرویو میں ابو الغیط نے زور دے کر کہا ہے کہ حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کو نشانہ بنانا خوفناک اور قابل مذمت ہے اور جیسا کہ ابو الغیط نے اشارہ کیا ہے کہ بعض عرب ممالک شامی حکومت کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے لیے تیار ہیں انھوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ شام کے صدر بشار الاسد کو نومبر کے اوائل میں جزائر میں ہونے والے عرب سربراہی اجلاس میں شرکت کی دعوت دینے کا مسئلہ ابھی تک حل نہیں ہوا ہے۔(۔۔۔)
پیر 25 شعبان المعظم 1443 ہجری - 28 مارچ 2022ء شمارہ نمبر[15826]