تل ابیب واقعے کے تناظر میں جنین مہاجر کیمپ میں خونریز جھڑپیں ہوئیں ہیں

جنازہ کو لے جانے کے منظر کو دیکھا جا سکتا ہے
جنازہ کو لے جانے کے منظر کو دیکھا جا سکتا ہے
TT

تل ابیب واقعے کے تناظر میں جنین مہاجر کیمپ میں خونریز جھڑپیں ہوئیں ہیں

جنازہ کو لے جانے کے منظر کو دیکھا جا سکتا ہے
جنازہ کو لے جانے کے منظر کو دیکھا جا سکتا ہے
گزشتہ روز اسرائیلی فوج کے بڑے دستوں نے شمالی مغربی کنارے میں واقع جنین پناہ گزین کیمپ پر دھاوا بول دیا ہے اور اندر موجود مسلح افراد کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئیں ہیں جس کے نتیجے میں ایک فلسطینی ہلاک، 14 دیگر زخمی اور متعدد مطلوب افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور یہ تل ابیب میں جمعرات کی شام کو پیش آنے والے واقعہ کے بعد ہوا ہے جس میں رعد حازم نامی فلسطینی نوجوان نے تین اسرائیلی افارد کو مار گرایا ہے۔

کل کی یہ اسرائیلی مہم شمالی مغربی کنارے کی جانب سے مسلح افرادوں کے ذریعہ اسرائیل کے اندر کی جانے والی کئی کارروائیوں کے جواب میں سامنے آئی ہے جس کے نتیجے میں 3 ہفتوں کے اندر 14 اسرائیلی مارے گئے ہیں اور کیمپ میں موجود فلسطینیوں نے اسرائیلی فوج کا گولیوں اور پتھروں سے استقبال کیا ہے اور دونوں گروہ کے درمیان پرتشدد اور طویل جھڑپیں شروع ہوئیں ہیں جس کے نتیجے میں القدس بریگیڈز کے کارکن احمد السعدی (23 سال) مارا گیا ہے۔(۔۔۔)

اتوار 09 رمضان المبارک  1443 ہجری  - 10  مارچ  2022ء شمارہ نمبر[15838]



آسٹریلیا نے لبنان میں اسرائیلی حملے میں اپنے 2 شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔

اسرائیل کی سرحد پار جاری کشیدگی کے دوران اسرائیلی بمباری کے بعد جنوبی لبنان میں دھواں اٹھ رہا ہے (اے ایف پی)
اسرائیل کی سرحد پار جاری کشیدگی کے دوران اسرائیلی بمباری کے بعد جنوبی لبنان میں دھواں اٹھ رہا ہے (اے ایف پی)
TT

آسٹریلیا نے لبنان میں اسرائیلی حملے میں اپنے 2 شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔

اسرائیل کی سرحد پار جاری کشیدگی کے دوران اسرائیلی بمباری کے بعد جنوبی لبنان میں دھواں اٹھ رہا ہے (اے ایف پی)
اسرائیل کی سرحد پار جاری کشیدگی کے دوران اسرائیلی بمباری کے بعد جنوبی لبنان میں دھواں اٹھ رہا ہے (اے ایف پی)

آسٹریلیا نے آج جمعرات کے روز تصدیق کی کہ اس کے دو شہری جنوبی لبنان کو نشانہ بنانے والے اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے ہیں۔ اس نے نشاندہی کی کہ وہ "حزب اللہ" کے ان دعوں کی تحقیقات کر رہا ہے کہ ان میں سے ایک کا تعلق مسلح گروپ سے تھا۔

آسٹریلیا کے قائم مقام وزیر خارجہ مارک ڈریفس نے ایک پریس کانفرنس میں کہا: "ہم اس خاص شخص سے متعلق تحقیقات جاری رکھیں گے جس کے بارے میں حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس سے منسلک تھا۔"

انہوں نے مزید کہا: "حزب اللہ نے اعلان کیا ہے کہ یہ آسٹریلوی اس کے جنگجوؤں میں سے ایک ہے، جس پر ہماری تحقیقات جاری ہیں۔"

ڈریفس نے نشاندہی کی کہ "حزب اللہ آسٹریلیا میں درج شدہ ایک دہشت گرد تنظیم ہے،" اور کسی بھی آسڑیلوی شہری کے لیے اسے مالی مدد فراہم کرنا یا اس کی صفوں میں شامل ہو کر لڑنا جرم شمار پوتا ہے۔

خیال رہے کہ یہ اسرائیلی حملہ منگل کی شام دیر گئے ہوا جس میں بنت جبیل قصبے میں ایک گھر کو نشانہ بنایا گیا، جب کہ اس قصبے میں ایرانی حمایت یافتہ "حزب اللہ" گروپ کو وسیع سپورٹ حاصل ہے۔

ڈریفس نے کہا کہ آسٹریلوی حکومت نے اس حملے کے بارے میں اسرائیل سے رابطہ کیا تھا، لیکن انہوں نے اس دوران ہونے والی بات چیت کا ظاہر کرنے سے انکار کر دیا۔

انہوں نے لبنان میں آسٹریلوی باشندوں پر زور دیا کہ وہ ملک چھوڑ دیں کیونکہ ابھی بھی تجارتی پروازوں کی آپشن موجود ہے۔

یاد رہے کہ اکتوبر میں غزہ میں اسرائیل اور تحریک "حماس" کے مابین جنگ شروع ہونے کے بعد سے "حزب اللہ" لبنان کی جنوبی سرحد کے پار اسرائیل کے ساتھ تقریباً روزانہ کی بنیاد پر فائرنگ کا تبادلہ کرتی ہے۔

جمعرات-15 جمادى الآخر 1445ہجری، 28 دسمبر 2023، شمارہ نمبر[16466]