یہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکہ نے اشارہ کیا ہے کہ صدر رجب طیب اردغان جس حملے کی دھمکی دے رہے ہیں اس سے خطے کے استحکام کو خطرہ ہوگا اور ترک ذرائع نے انقرہ میں الشرق الاوسط کو بتایا ہے کہ امریکیوں نے 17 اکتوبر 2019 کو دستخط کئے گئے اس دستاویز کی شرائط کی پاسداری نہیں کی ہے جس میں 13 مضامین شامل ہیں جن میں سب سے اہم "سیرین ڈیموکریٹک فورسز" اتحاد کے سب سے بڑے جزو کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس کے ذریعہ 5 دنوں کے اندر جنوبی ترکی کی سرحد سے 30 کلومیٹر کے فاصلے تک انخلاء کرنا ہے۔
ذرائع کے یہ الفاظ ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب انقرہ کی جانب سے محفوظ زون کے قیام کے لیے فوجی آپریشن شروع کرنے کی ترک دھمکی کو مسترد کرتے ہوئے امریکی موقف پر کوئی سرکاری تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے اور امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے ایک پریس کانفرنس میں منگل کو کہا ہے کہ ہمیں شمالی شام میں فوجی کارروائی کے اضافے کے امکان کے بارے میں سامنے آنے والی رپورٹوں اور بات چیت کے سلسلہ میں گہری تشویش ہے اور خاص طور پر وہاں کی شہری آبادی پر اس کے اثرات مرتب ہوں گے اور انہوں نے مزید کہا کہ ہم ترکی کی جنوبی سرحدوں پر سکیورٹی کے جائز خدشات سے آگاہ ہیں لیکن کوئی بھی نیا حملہ خطے میں استحکام کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور امریکی افواج اور دہشت گرد تنظیم داعش کے خلاف اتحاد کی مہم کو خطرے میں ڈال سکتا ہے اور نشار الأسد کی حکومت میں وزارت خارجا کا کہنا ہے کہنا ہے کہ اس نے اقوام متحدہ کے جنرل نے سیکرٹری اور سلامتی کونسل کو ایک خط بھیجا ہے جس میں ترکی کے اقدامات کو غیر قانونی قرار دیا ہے اور سرکاری خبر رساں ایجنسی کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ اسے جنگی جرائم بلکہ انسانیت کے خلاف جرائم سمجھتے ہیں۔(۔۔۔)
جمعرات 24 شوال المعظم 1443 ہجری - 26 اپریل 2022ء شمارہ نمبر[15885]