محفوظ زون کے سلسلہ میں ترکی اور امریکہ کے درمیان ہوا اختلاف

گزشتہ ماہ شمال مشرقی شام کے صوبہ حسکہ میں قامشلی کے دیہی علاقوں میں گشت کے دوران بریڈلی کی گاڑی کے قریب ایک امریکی فوجی کو دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)
گزشتہ ماہ شمال مشرقی شام کے صوبہ حسکہ میں قامشلی کے دیہی علاقوں میں گشت کے دوران بریڈلی کی گاڑی کے قریب ایک امریکی فوجی کو دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)
TT

محفوظ زون کے سلسلہ میں ترکی اور امریکہ کے درمیان ہوا اختلاف

گزشتہ ماہ شمال مشرقی شام کے صوبہ حسکہ میں قامشلی کے دیہی علاقوں میں گشت کے دوران بریڈلی کی گاڑی کے قریب ایک امریکی فوجی کو دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)
گزشتہ ماہ شمال مشرقی شام کے صوبہ حسکہ میں قامشلی کے دیہی علاقوں میں گشت کے دوران بریڈلی کی گاڑی کے قریب ایک امریکی فوجی کو دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)
آج (جمعرات) ترکی کی قومی سلامتی کونسل کے اجلاس کے موقع پر انقرہ اور واشنگٹن کے درمیان 30 کلومیٹر کے اندرون تک شام کے ساتھ اپنی سرحد کے ساتھ محفوظ زون کے حوالے سے ایک واضح تنازعہ ابھر کر سامنے آیا جسے بنانے کی کوشش ترکی کر رہا ہے۔

یہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکہ نے اشارہ کیا ہے کہ صدر رجب طیب اردغان جس حملے کی دھمکی دے رہے ہیں اس سے خطے کے استحکام کو خطرہ ہوگا اور ترک ذرائع نے انقرہ میں الشرق الاوسط کو بتایا ہے کہ امریکیوں نے  17 اکتوبر 2019 کو دستخط کئے گئے اس دستاویز کی شرائط کی پاسداری نہیں کی ہے جس میں 13 مضامین شامل ہیں جن میں سب سے اہم "سیرین ڈیموکریٹک فورسز"  اتحاد کے سب سے بڑے جزو کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس کے ذریعہ 5 دنوں کے اندر جنوبی ترکی کی سرحد سے 30 کلومیٹر کے فاصلے تک انخلاء کرنا ہے۔

ذرائع کے یہ الفاظ ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب انقرہ کی جانب سے محفوظ زون کے قیام کے لیے فوجی آپریشن شروع کرنے کی ترک دھمکی کو مسترد کرتے ہوئے امریکی موقف پر کوئی سرکاری تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے اور امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے ایک پریس کانفرنس میں منگل کو کہا ہے کہ ہمیں شمالی شام میں فوجی کارروائی کے اضافے کے امکان کے بارے میں سامنے آنے والی رپورٹوں اور بات چیت کے سلسلہ میں گہری تشویش ہے اور خاص طور پر وہاں کی شہری آبادی پر اس کے اثرات مرتب ہوں گے اور انہوں نے مزید کہا کہ ہم ترکی کی جنوبی سرحدوں پر سکیورٹی کے جائز خدشات سے آگاہ ہیں لیکن کوئی بھی نیا حملہ خطے میں استحکام کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور امریکی افواج اور دہشت گرد تنظیم داعش کے خلاف اتحاد کی مہم کو خطرے میں ڈال سکتا ہے اور نشار الأسد کی حکومت میں وزارت خارجا کا کہنا ہے کہنا ہے کہ اس نے اقوام متحدہ کے جنرل نے سیکرٹری اور سلامتی کونسل کو ایک خط بھیجا ہے جس میں ترکی کے اقدامات کو غیر قانونی قرار دیا ہے اور سرکاری خبر رساں ایجنسی کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ اسے جنگی جرائم بلکہ انسانیت کے خلاف جرائم سمجھتے ہیں۔(۔۔۔)

جمعرات  24 شوال المعظم  1443 ہجری  - 26   اپریل   2022ء شمارہ نمبر[15885]



فرانس اسرائیلیوں کے ساتھ یکجہتی کرتا ہے، لیکن غزہ کی صورتحال کو "غیر منصفانہ" سمجھتا ہے: فرانسیسی وزیر خارجہ سیگورنٹ کا بیان

فرانسیسی وزیر خارجہ سٹیفن سیگورنٹ (ایکس پلیٹ فارم پر ان کا اکاؤنٹ سے لی گئی تصویر)
فرانسیسی وزیر خارجہ سٹیفن سیگورنٹ (ایکس پلیٹ فارم پر ان کا اکاؤنٹ سے لی گئی تصویر)
TT

فرانس اسرائیلیوں کے ساتھ یکجہتی کرتا ہے، لیکن غزہ کی صورتحال کو "غیر منصفانہ" سمجھتا ہے: فرانسیسی وزیر خارجہ سیگورنٹ کا بیان

فرانسیسی وزیر خارجہ سٹیفن سیگورنٹ (ایکس پلیٹ فارم پر ان کا اکاؤنٹ سے لی گئی تصویر)
فرانسیسی وزیر خارجہ سٹیفن سیگورنٹ (ایکس پلیٹ فارم پر ان کا اکاؤنٹ سے لی گئی تصویر)

فرانسیسی وزیر خارجہ، جنہوں نے ایک ہفتہ قبل مشرق وسطیٰ کا دورہ کیا تھا، نے روزنامہ "اویسٹ فرانس" کو بیان دیتے ہوئے زور دیا کہ فرانس "حقیقی صدمہ" پہنچنے والے اسرائیلیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتا ہے، لیکن وہ غزہ کی صورتحال کو "غیر منصفانہ" سمجھتا ہے۔

فرانسیسی وزیر اسٹیفن سیگورنٹ نے ہفتے کے روز شائع ہونے والے انٹرویو کے دوران کہا: "ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ 7 اکتوبر کے بعد اب اسرائیلی معاشرہ پہلے جیسا نہیں رہا۔" انہوں نے مزید کہا: "مجھے اس کا احساس نہیں ہوا جب تک میں خود وہاں گیا۔"

سیگورنٹ نے کہا کہ میں یہ "فرض" سمجھتا ہوں کہ "اسرائیلیوں کا صدمہ حقیقی ہے۔"  (...)

اتوار-01 شعبان 1445ہجری، 11 فروری 2024، شمارہ نمبر[16511]


نیتن یاہو نے بائیڈن کو نظر انداز کر دیا... اور "خون کی ہولی" کھیلنے کا اندیشہ

فلسطینی جمعہ کے روز غزہ کی پٹی میں دیر البلح پر اسرائیلی حملے کے مقام پر زندہ بچ جانے والوں اور متاثرین کی تلاش کر رہے ہیں (اے پی)
فلسطینی جمعہ کے روز غزہ کی پٹی میں دیر البلح پر اسرائیلی حملے کے مقام پر زندہ بچ جانے والوں اور متاثرین کی تلاش کر رہے ہیں (اے پی)
TT

نیتن یاہو نے بائیڈن کو نظر انداز کر دیا... اور "خون کی ہولی" کھیلنے کا اندیشہ

فلسطینی جمعہ کے روز غزہ کی پٹی میں دیر البلح پر اسرائیلی حملے کے مقام پر زندہ بچ جانے والوں اور متاثرین کی تلاش کر رہے ہیں (اے پی)
فلسطینی جمعہ کے روز غزہ کی پٹی میں دیر البلح پر اسرائیلی حملے کے مقام پر زندہ بچ جانے والوں اور متاثرین کی تلاش کر رہے ہیں (اے پی)

غزہ کی پٹی پر جنگ کے حوالے سے واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کے اشاروں کی روشنی میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کل (بروز جمعہ) اعلان کیا کہ انہوں نے مصر کی سرحد کے ساتھ پٹی کے انتہائی جنوب میں اسرائیلی حملے کو وسعت دینے کی کوشش میں اپنی فوج سے کہا ہے کہ وہ رفح سے شہریوں کے "انخلاء" کا منصوبہ تیار کریں۔

نیتن یاہو کا یہ اقدام صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے لیے ایک چیلنج دکھائی دیتا ہے جسے خدشہ ہے کہ رفح میں اسرائیلی آپریشن بڑی تعداد میں ہلاکتوں کا باعث بنے گا۔ اسی طرح انسانی ہمدردی کی ایجنسیوں کو بھی اس علاقے میں "خون کی ہولی" کھیلے جانے کا اندیشہ ہے، جہاں اس وقت تقریباً 1.4 ملین افراد رہائش پذیر ہیں، جن میں زیادہ تر وہ افراد ہیں جو غزہ کی پٹی کے دیگر علاقوں سے بے گھر ہونے کے بعد یہاں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ (...)

ہفتہ-29 رجب 1445ہجری، 10 فروری 2024، شمارہ نمبر[16510]


بائیڈن کا ایران پر 3 امریکی فوجیوں کے قتل میں ملوث ہونے کا الزام... اور جواب دینے کا عزم

امریکی صدر جو بائیڈن (اے پی)
امریکی صدر جو بائیڈن (اے پی)
TT

بائیڈن کا ایران پر 3 امریکی فوجیوں کے قتل میں ملوث ہونے کا الزام... اور جواب دینے کا عزم

امریکی صدر جو بائیڈن (اے پی)
امریکی صدر جو بائیڈن (اے پی)

امریکی صدر جو بائیڈن نے کل (اتوار) کو شام کی سرحد کے قریب شمال مشرقی اردن میں تعینات امریکی افواج پر ڈرون حملے میں 3 امریکی فوجیوں کی ہلاکت اور دیگر کے زخمی ہونے کا اعلان کیا۔

بائیڈن نے "وائٹ ہاؤس" سے جاری اپنے بیان میں کہا کہ یہ حملہ ایران کے حمایت یافتہ مسلح گروپوں نے کیا جو شام اور عراق میں کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ واشنگٹن ابھی معاملے کی تحقیقات کر رہا ہے اور حملے کے بارے میں حقائق جمع کر رہا ہے۔ بائیڈن نے یقین دہانی کی کہ ان کا ملک امریکی فوجیوں کے قتل اور زخمی کرنے میں ملوث "تمام ذمہ داروں" کو "مناسب وقت اور طریقے سے" جواب دے گا۔

اسی طرح آج امریکی ایوان نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن نے بھی امریکی فوجیوں کے قتل کی مذمت کی اور "X" پلیٹ فارم پر کہا کہ امریکی انتظامیہ کو دنیا کو ایک "مضبوط پیغام" دینا چاہیے کہ امریکی افواج کے خلاف حملوں کا جواب ہر صورت دیا جائے گا۔(...)

پیر-17 رجب 1445ہجری، 29 جنوری 2024، شمارہ نمبر[16498]