تیونس کے صدر قیس سعید نے کل شام 57 ججوں پر "کرپشن، ملی بھگت اور دہشت گردی کے مقدمات میں مشتبہ افراد کو چھپانے" کے الزامات لگائے جانے کے بعد انہیں برطرف کر دیا ہے۔ صدر جمہوریہ کی ہدایات اور نئے اقدام کی مخالفین کی طرف سے سختی سے تردید اور مذمت کی گئی۔
صدر سعید کی طرف سے برطرف کیے جانے والے ججز کی اس فہرست میں سینئر ججز بھی شامل ہیں، جن میں تحلیل شدہ جوڈیشل سپریم کونسل کے سربراہ یوسف بوزاخر اور ایک جج البشیر العکرمی ہیں؛ جن پر سیاسی کارکنوں نے دہشت گردی کے مقدمات کی فائلیں چھپانے اور ’’تحریک النہضہ‘‘ کے ساتھ گہرا تعلق ہونے کا الزام عائد کیا ہے، لیکن وہ مسلسل اس کی تردید کرتی رہی ہے ۔ برطرف کیے گئے ججوں میں انسداد دہشت گردی عدالت کے سابق ترجمان باسم القطب، کسٹم کے سابق ڈائریکٹر جنرل اور دیگر ججز بھی شامل ہیں جن پر پہلی بااثر سیاسی جماعتوں کے ساتھ میل جول کا الزام لگایا گیا تھا اور وہ جج جو 2013 میں دو سیاستدانوں کے سیاسی قتل کی تحقیقات سے متعلق نام نہاد فائل "خفیہ سروس" کی نگرانی کر رہے تھے۔(...)
جمعہ -4 ذوالقعدہ 1443 ہجری - 3جون 2022ء شمارہ نمبر[15893]