اوسلو حملے کے پیچھے دہشت گردانہ کارروائی کا امکان ہے

اوسلو حملے کے پیچھے دہشت گردانہ کارروائی کا امکان ہے

اتوار, 26 June, 2022 - 12:00
گزشتہ روز اوسلو میں حملے کی جگہ کی تحقیقاتی منظر کو دیکھا جا سکتا ہے (رائٹرز)
ناروے کی انٹیلی جنس سروس نے وسطی اوسلو میں ہم جنس پرستوں کے بار کے قریب ہونے والی فائرنگ کے بعد دہشت گردی کی کاروائی کے امکان کا اظہار کیا ہے جس کے نتیجے میں ہفتے کے روز طے شدہ ہم جنس پرستوں کی ریلی کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔

اس حملے کے فوری بعد ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے جس میں 3 افراد ہلاک اور 20 زخمی ہوئے ہیں اور ایجنسی کے سربراہ کے مطابق مشتبہ شخص کی تشدد اور دھمکیوں کی تاریخ ہے اور اسے 2015 سے اندرونی انٹیلی جنس کی نگرانی میں رکھا گیا ہے اور اس کی شدت پسندی سے متعلق خدشات اور انتہا پسند نیٹ ورک کے ساتھ اس کی وابستگی بھی ہے اور یاد رہے کہ یہ ساری معلومات راجر برگ نے ایک پریس بیان میں دیا ہے۔


اس سے قبل ایجنسی فرانس پریس کے مطابق اوسلو پولیس نے مشتبہ شخص کی شناخت 42 سالہ ایرانی نژاد نارویجن کے طور پر کی تھی جو پولیس کو معمولی بدکاری کے لئے بھی جانا جاتا ہے اور برگ نے نوٹ کیا ہے کہ داخلی انٹیلیجنس کو بھی اس کی ذہنی صحت سے متعلق مشکلات سے آگاہی ہے۔


ان کے وکیل جان کرسچن ایلڈن نے نارویجن نیوز ایجنسی کو بتایا ہے کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ ان کے مؤکل کو ان کی ذہنی صحت کا جائزہ لینے کے لئے عدالتی نگرانی میں رکھا جائے جیسا کہ سنگین معاملات میں ہوتا ہے۔(۔۔۔)


اتوار  27  ذی القعدہ  1443 ہجری  - 26    جون   2022ء شمارہ نمبر[15916]


انتخاباتِ مدير

ملٹی میڈیا