جنیوا میں آئینی حل کے سلسلہ میں ہوا لیبیا کا معاہدہ

صدارتی کونسل کو طرابلس میں امریکی ایلچی سفیر رچرڈ نورلینڈ سے ملاقات کے دوران دیکھا جا سکتا ہے (صدارتی کونسل)
صدارتی کونسل کو طرابلس میں امریکی ایلچی سفیر رچرڈ نورلینڈ سے ملاقات کے دوران دیکھا جا سکتا ہے (صدارتی کونسل)
TT

جنیوا میں آئینی حل کے سلسلہ میں ہوا لیبیا کا معاہدہ

صدارتی کونسل کو طرابلس میں امریکی ایلچی سفیر رچرڈ نورلینڈ سے ملاقات کے دوران دیکھا جا سکتا ہے (صدارتی کونسل)
صدارتی کونسل کو طرابلس میں امریکی ایلچی سفیر رچرڈ نورلینڈ سے ملاقات کے دوران دیکھا جا سکتا ہے (صدارتی کونسل)
لیبیا کے ایوانِ نمائندگان اور سپریم سٹیٹ کونسل کے قریبی ذرائع نے بتایا ہے کہ وہ گزشتہ روز ایک معاہدے پر پہنچ گئے ہیں جس میں صدارتی انتخابات میں حصہ لینے اور نظام حکومت کے حوالے سے شرائط سمیت آئینی ٹریک کمیٹی کے اندر تنازعات کو ختم کیا جائے گا۔

ایوان نمائندگان کی سپیکر عقیلہ صالح کے میڈیا ایڈوائزر عبد الحمید الصافی کے بیانات کے مطابق عقیلہ صالح کو کل اعلیٰ کونسل آف سٹیٹ کے صدر خالد المشری کے ساتھ بے مثال مسودہ اور معاہدوں دستخط کرنا تھا اور انہوں نے جنیوا مذاکرات میں دونوں فریقوں کے درمیان عظیم اتفاقِ رائے کا اعلان کیا ہے اور دونوں فریق رعایتیں پیش کرنے کی ضرورت کے قائل ہیں اور انہوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ عقیلہ اور المشری معاہدے کے نکات کا اعلان کرنے کے لئے ایک پریس کانفرنس کرنے والے ہیں، جس میں فتحی باشاغا کی قیادت میں متفقہ اتھارٹی پر ان کا معاہدہ بھی شامل ہے اور اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ متحد اتھارٹی کی تقسیم کا مقصد انتخابات کی تیاری میں شہریوں کے لئے ضروری خدمات فراہم کرنا ہے۔(۔۔۔)

جمعرات  01   ذی الحجہ  1443 ہجری  - 30    جون   2022ء شمارہ نمبر[15920]  



"اسرائیل کے بھاری بم" بیروت پر اڑ رہے ہیں

جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والوں میں سے ایک کی والدہ کل سرحدی قصبے القنطرہ میں جنازے کے دوران (اے پی)
جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والوں میں سے ایک کی والدہ کل سرحدی قصبے القنطرہ میں جنازے کے دوران (اے پی)
TT

"اسرائیل کے بھاری بم" بیروت پر اڑ رہے ہیں

جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والوں میں سے ایک کی والدہ کل سرحدی قصبے القنطرہ میں جنازے کے دوران (اے پی)
جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والوں میں سے ایک کی والدہ کل سرحدی قصبے القنطرہ میں جنازے کے دوران (اے پی)

اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلنٹ نے خبردار کیا ہے کہ ان کی افواج "حزب اللہ" پر نہ صرف سرحد سے 20 کلومیٹر کے فاصلے پر بلکہ بیروت کی جانب 50 کلومیٹر کے فاصلے تک بھی حملہ کر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا، لیکن اسرائیل "جنگ نہیں چاہتا۔" انہوں نے اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ "اس وقت لبنان کی فضاؤں پر پرواز کرنے والے فضائیہ کے طیارے دور دراز کے اہداف کے لیے بھاری بم لے جاتے ہیں۔"

خیال رہے کہ گیلنٹ کا یہ انتباہ بڑے پیمانے پر ان اسرائیلی حملوں کے بعد سامنے آیا ہے جن میں 24 گھنٹوں کے دوران 18 افراد ہلاک ہوگئے ہیں، جن میں "حزب اللہ" کے 7 جنگجو اور بچوں سمیت 11 عام شہری شامل تھے، ان سلسلہ وار فضائی حملوں میں سے ایک حملے میں شہر النبطیہ کو نشانہ بنایا گیا، جہاں اسرائیل نے "حزب اللہ"کے ایک فوجی قیادت اور اس کے ہمراہ دو عناصر کو ہلاک کیا۔

اسی حملے میں ایک ہی خاندان کے 7 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا کہ "بدھ کو رات کے وقت الرضوان یونٹ کے مرکزی کمانڈر علی محمد الدبس کو ان کے نائب حسن ابراہیم عیسیٰ اور ایک اور شخص کے ساتھ ختم کر دیا گیا ہے۔"

دوسری جانب، "حزب اللہ" نے کل جمعرات کی شام اعلان کیا کہ اس نے "النبطیہ اور الصوانہ میں قتل عام کا یہ ابتدائی ردعمل" دیا ہے، خیال رہے کہ اس کے جنگجوؤں نے "کریات شمونہ" نامی اسرائیلی آبادی پر درجنوں کاتیوشا راکٹوں سے حملہ کیا تھا۔ (...)

جمعہ-06 شعبان 1445ہجری، 16 فروری 2024، شمارہ نمبر[16516]