عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ صدارتی محل کے آس پاس کا علاقہ نیم فوجی بیرکوں میں تبدیل ہو گیا ہے جہاں فوجیوں اور بکتر بند گاڑیوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جبکہ محل کے قریب واقع "المک نمر" پل اور اس کی طرف جانے والی تمام سڑکوں کو ہر طرف سے بند کر دیا گیا ہے اور پرسو روز "30 جون" کے یادگاری جلوس میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں گولی مار کر ہلاک ہونے والے ہلاک شدگان کی لاشوں کے جنازے کے بعد صورتحال مزید خراب ہو گئی ہے اور سوڈان کے ڈاکٹروں کی سینٹرل کمیٹی نے بتایا ہے کہ زخموں کی تاب نہ لا کر مظاہرہ کرنے والے ایک اور شخص کے مرنے سے ٹوٹل مرنے والوں کی تعداد 10 ہو گئی ہے اور مزید یہ بھی کہا کہ اکتوبر میں فوج کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے مرنے والوں کی تعداد 112 ہو گئی ہے اور اس کے علاوہ 5,200 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔(۔۔۔)
ہفتہ 03 ذی الحجہ 1443 ہجری - 02 جولائی 2022ء شمارہ نمبر[15922]