کردوں اور دمشق حکومت کے درمیان ایک دفاعی منصوبہ

حلب کے شمالی دیہی علاقوں میں فوجی پریڈ کے دوران ترکی کے وفادار شامی جنگجوؤن کو دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)
حلب کے شمالی دیہی علاقوں میں فوجی پریڈ کے دوران ترکی کے وفادار شامی جنگجوؤن کو دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)
TT

کردوں اور دمشق حکومت کے درمیان ایک دفاعی منصوبہ

حلب کے شمالی دیہی علاقوں میں فوجی پریڈ کے دوران ترکی کے وفادار شامی جنگجوؤن کو دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)
حلب کے شمالی دیہی علاقوں میں فوجی پریڈ کے دوران ترکی کے وفادار شامی جنگجوؤن کو دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)
دمشق میں صدر بشار الاسد کی حکومت اور شمال مشرقی شام میں کردوں کے درمیان پہلے سے ہی کشیدہ تعلقات میں گزشتہ چند گھنٹوں میں ایک قابل ذکر پیش رفت دیکھنے میں اس وقت آئی ہے اور ترکی کی طرف سے شمالی شام میں فوجی آپریشن شروع کرنے کی دھمکیوں کی روشنی میں کردوں کی طرف سے دونوں فریقوں کے درمیان مشترکہ دفاعی منصوبے تک پہنچنے کے بارے میں اطلاع ملی ہے۔ ۔

"سیرین ڈیموکریٹک فورسز" (ایس ڈی ایف) کے بنیادی مرکز کردش پیپلز پروٹیکشن یونٹس کے ترجمان نوری محمود نے کہا ہے کہ وہ ترکی کی کسی بھی جارحیت کا سامنا کرنے کے مقصد سے مشترکہ ایکشن فارمولہ تیار کرنے اور ایک دفاعی منصوبہ تیار کرنے کے لئے شامی حکام کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں اور اس میدان میں مثبت پیش رفت بھی ہوئی ہے اور جہاں تک (ایس ڈی ایف) کے میڈیا ڈائریکٹر فرہاد شامی کا تعلق ہے تو انہوں نے دمشق حکومت کے ساتھ معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کوئی حالیہ معاہدہ نہیں ہے بلکہ ترکی کے کسی بھی ممکنہ حملے کو پسپا کرنے کے لئے ایک فوجی سمجھوتہ ہے اور انہوں نے اس بات کا بھی انکشاف کیا ہے کہ حکومتی فورسز کے 550 فوجی ابتدائی سمجھوتے کے بعد ایس ڈی ایف کے علاقوں میں پہنچے جو کل (پیر) سے نافذ ہوئی ہے۔(۔۔۔)

بدھ  07   ذی الحجہ  1443 ہجری  - 06    جولائی   2022ء شمارہ نمبر[15926]