لپیڈ نے کل صبح پیرس کے لئے اپنے طیارے کے اڑان بھرنے سے پہلے کہا تھا کہ لبنانی حکومت کو ان حملوں کے بدلے (حزب اللہ) کو روکنا چاہیے، ورنہ ہم ایسا کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔
لیپڈ نے مزید کہا کہ اسرائیل اپنی خودمختاری پر اس قسم کے حملے کو برداشت نہیں کرے گا اور جو بھی ایسا کرے گا اسے معلوم ہونا چاہیے کہ وہ اپنی حفاظت کے لئے غیر مناسب خطرہ مول لے رہا ہے اور پریس کو دئے گئے ایک بیان میں ایسا لگا کہ میکرون نے لپیڈ کی دعوت قبول کر لی ہے کیونکہ انہوں نے فریقوں کو ایسے کام کرنے سے پرہیز کرنے کو کہا ہے جس سے دونوں فریق اسرائیل اور لبنان کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کی امید نہ ختم ہو جائے اور انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں اسرائیل کے ساتھ سمندری سرحد پر مذاکرات کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہوں اور دونوں ممالک ایک ایسے معاہدے تک پہنچنے میں دلچسپی رکھتے ہیں جس سے دونوں عوام کے فائدے کے لئے توانائی کا استعمال کیا جا سکے گا۔(۔۔۔)
بدھ 07 ذی الحجہ 1443 ہجری - 06 جولائی 2022ء شمارہ نمبر[15926]