لیبیا کے دارالحکومت میں خونریز جھڑپیں ہوئیں

لیبیا کے دارالحکومت کی ایک گلی میں کل جھڑپوں والے علاقوں کے قریب ایک فوجی دستہ کو دیکھا جا سکتا ہے (اے بی)
لیبیا کے دارالحکومت کی ایک گلی میں کل جھڑپوں والے علاقوں کے قریب ایک فوجی دستہ کو دیکھا جا سکتا ہے (اے بی)
TT

لیبیا کے دارالحکومت میں خونریز جھڑپیں ہوئیں

لیبیا کے دارالحکومت کی ایک گلی میں کل جھڑپوں والے علاقوں کے قریب ایک فوجی دستہ کو دیکھا جا سکتا ہے (اے بی)
لیبیا کے دارالحکومت کی ایک گلی میں کل جھڑپوں والے علاقوں کے قریب ایک فوجی دستہ کو دیکھا جا سکتا ہے (اے بی)
لیبیا کے دارالحکومت میں جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب دو مسلح گروپوں کے درمیان پرتشدد جھڑپوں کے نتیجے میں ایک بچے سمیت 16 افراد ہلاک اور 30 ​​زخمی ہوئے ہیں اور جھڑپیں کل دوپہر ایک مختصر وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہو گئیں ہیں جس کے دوران شہر کے مشرق میں طرابلس یونیورسٹی کے کیمپس اور طرابلس میڈیکل سینٹر کے قریب دونوں طرف شدید فائرنگ کا منظر دیکھنے کو ملا ہے واقع ہوا جہاں بہت سے لوگوں نے تشدد سے بھاگتے ہوئے پناہ لی ہے۔

یہ جھڑپیں صدارتی کونسل کی عبدالرؤف کارہ کی سربراہی میں صدارتی ایجنسی کے ماتحت "دہشت گردی اور منظم جرائم سے نمٹنے" کے عناصر اور صدارتی گارڈ کے کمانڈر ایوب ابو راس کی قیادت میں "ٹرپولی ریوولیوشنری" بریگیڈ کے ایک ٹیم کے درمیان ہوئیں ہیں اور یہ جھڑپیں اس منظر نامہ کی وجہ سے ہوئیں کہ دوسرے نے پہلے پر اپنے ایک آدمی کو اچک لینے کا الزام عائد کیا ہے اور پہلے پر اس کے آدمی کو گرفتار کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔

لیبیا ایئر لائنز نے قاہرہ سے آنے والی اپنی پروازوں کا رخ موڑ دیا اور بن غازی سے آنے والی گلوبل ایئر لائنز جو جھڑپوں کے مقام کے قریب معیتیقہ ہوائی اڈے پر اترنے والی تھیں ان کو طرابلس سے 250 کلومیٹر مشرق میں واقع مصراتہ ہوائی اڈے کی طرف موڑ دیا گیا ہے۔(۔۔۔)

ہفتہ  24   ذی الحجہ  1443 ہجری   -  23 جولائی   2022ء شمارہ نمبر[15943]