اردوغان نے سوچی سے واپسی کے دوران ان کے ساتھ آنے والے صحافیوں کے ایک گروپ کو بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ پوٹن نے انہیں بتایا ہے کہ شام کے بحران کا حل بشار الاسد کی حکومت کے ساتھ تعاون میں بہتر ہوگا اور انہوں نے جواب دیا کہ ترک انٹیلی جنس سروس پہلے ہی شامی انٹیلی جنس کے ساتھ ان مسائل سے نمٹ رہی ہے لیکن اصل مقصد یہ ہے کہ نتائج حاصل کئے جائیں۔
اردوغان نے مزید کہا کہ انہوں نے پوتن کو آگاہ کیا ہے کہ شام کے بحران کا حل حاصل نہیں کیا جا سکتا اور دہشت گرد تنظیمیں شام کی سرزمین پر دندناتی پھر رہی ہیں اور ان کے ساتھ شام میں سرحد پار آپریشن کرنے کے امکان پر تبادلہ خیال کیا ہے اور انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ان اقدامات پر بھی بات کی ہے جو شام میں موجود دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔(۔۔۔)
اتوار 10 محرم الحرام 1444 ہجری - 07 اگست 2022ء شمارہ نمبر[15958]