دبیبہ نے جارحیت کو شکست دینے کے بارے میں بات کی ہےhttps://urdu.aawsat.com/home/article/3845756/%D8%AF%D8%A8%DB%8C%D8%A8%DB%81-%D9%86%DB%92-%D8%AC%D8%A7%D8%B1%D8%AD%DB%8C%D8%AA-%DA%A9%D9%88-%D8%B4%DA%A9%D8%B3%D8%AA-%D8%AF%DB%8C%D9%86%DB%92-%DA%A9%DB%92-%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DB%92-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A8%D8%A7%D8%AA-%DA%A9%DB%8C-%DB%81%DB%92
دبیبہ نے جارحیت کو شکست دینے کے بارے میں بات کی ہے
دبیبہ نے طرابلس جھڑپوں کے کچھ متاثرین کے لئے تعزیت پیش کی ہے (لیبیا کی اتحاد حکومت)
لیبیا کی "اتحاد حکومت" کے سربراہ عبد الحمید الدبیبہ نے کل اعلان کیا ہے کہ دارالحکومت طرابلس کے خلاف جارحیت ان کے حریف "استحکام کی حکومت" کے سربراہ فتحی باشاغا کی شکست کے ساتھ ختم ہو گئی ہے اور یہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب اس کی افواج نے دارالحکومت اور اس کے مضافات میں باشاغا تک "وفاداروں کی باقیات کا پیچھا کرنا شروع کیا۔
پاشاگا حکومت کی تمام افواج طرابلس سے واپس چلی گئیں جبکہ دبیبہ حکومت کی افواج نے تمام فوجی اور سویلین ہیڈکوارٹرز پر کنٹرول نافذ کرنے اور وہاں تعینات مسلح گروپوں کو نکال باہر کرنے کا اعلان کیا ہے اور مقامی میڈیا نے 7 اپریل کو کیمپ کا کنٹرول سنبھالنے اور اسامہ الجویلی کی قیادت میں باشاغا کی وفادار افواج کے انخلاء کے بعد ایئرپورٹ روڈ - الجبس کے چوراہے پر "البقرہ بریگیڈ" اور دبیبہ کے وفادار دیگر گروپوں کے جشن کی نگرانی کی ہے۔(۔۔۔)
اسرائیل جبری نقل مکانی مسلط کرنے کے مقصد سے جنگ جاری رکھنے پر اصرار کرتا ہے: عباسhttps://urdu.aawsat.com/%D8%AE%D8%A8%D8%B1%D9%8A%DA%BA/%D8%B9%D8%B1%D8%A8-%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7/4863876-%D8%A7%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%8C%D9%84-%D8%AC%D8%A8%D8%B1%DB%8C-%D9%86%D9%82%D9%84-%D9%85%DA%A9%D8%A7%D9%86%DB%8C-%D9%85%D8%B3%D9%84%D8%B7-%DA%A9%D8%B1%D9%86%DB%92-%DA%A9%DB%92-%D9%85%D9%82%D8%B5%D8%AF-%D8%B3%DB%92-%D8%AC%D9%86%DA%AF-%D8%AC%D8%A7%D8%B1%DB%8C-%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D9%86%DB%92-%D9%BE%D8%B1-%D8%A7%D8%B5%D8%B1%D8%A7%D8%B1-%DA%A9%D8%B1%D8%AA%D8%A7-%DB%81%DB%92
اسرائیل جبری نقل مکانی مسلط کرنے کے مقصد سے جنگ جاری رکھنے پر اصرار کرتا ہے: عباس
فلسطینی صدر محمود عباس (ڈی پی اے)
فلسطین کے صدر محمود عباس نے کل اتوار کے روز کہا کہ اسرائیلی حکومت غزہ کی پٹی اور خاص طور پر رفح پر اپنی جنگ جاری رکھنے پر مُصر ہے، جس کا مقصد پٹی کی آبادی پر جبری نقل مکانی مسلط کرنا ہے۔
فلسطینی خبر رساں ایجنسی (وفا) نے فلسطینی قیادت کی ملاقات کے دوران عباس کے بیان کو نقل کیا، جنہوں نے کہا: "نیتن یاہو حکومت اور قابض فوج اب بھی غزہ کی پٹی کے مختلف شہروں اور خاص طور پر رفح شہر پر جارحانہ جنگ جاری رکھنے پر اصرار کر رہی ہے اور اس کا مقصد شہریوں پر جبری نقل مکانی مسلط کرنا ہے، جسےنہ تو ہم قبول کرتے ہیں اور نہ ہی ہمارے بھائی اور دنیا قبول کرتی ہے۔"
عباس نے وضاحت کی کہ فلسطینی قیادت کا اجلاس غزہ کی صورت حال پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے بلایا گیا ہے تاکہ "ان حملوں کو اور ایسے اقدامات کو روکا جا سکے جس سے فلسطینی عوام کو ان کی سرزمین اور ملک سے بے دخل کر دیا جائے۔" انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ رفح کی صورتحال "انتہائی خطرناک اور مشکل ہو چکی ہے، جس کے لیے فلسطینی قیادت کو فوری طور پر کاروائی کرنے کی ضرورت ہے۔" (...)