الجمیل کا "حزب اللہ" سے مطالبہ کہ وہ یہ ثابت کرے کہ وہ لبنانی ہے

انہوں نے "الشرق الاوسط" سے کہا: عون کے عہد حکومت میں مکمل تباہی ہوئی

رکن پارلیمنٹ سامی الجمیل "الشرق الاوسط" سے گفتگو کرتے ہوئے
رکن پارلیمنٹ سامی الجمیل "الشرق الاوسط" سے گفتگو کرتے ہوئے
TT

الجمیل کا "حزب اللہ" سے مطالبہ کہ وہ یہ ثابت کرے کہ وہ لبنانی ہے

رکن پارلیمنٹ سامی الجمیل "الشرق الاوسط" سے گفتگو کرتے ہوئے
رکن پارلیمنٹ سامی الجمیل "الشرق الاوسط" سے گفتگو کرتے ہوئے

لبنان کی الکتائب پارٹی کے سربراہ سامی الجمیل نے بعض اپوزیشن جماعتوں سے خبردار کیا ہے جو صدارتی انتخابات کے "اہم" معرکہ میں "حزب اللہ" کے ساتھ سمجھوتہ کر رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ صدر میشال عون کے عہد کے پچھلے چھ سال "مکمل تباہی کا باعث بنے۔" الجمیل  نے "الشرق الاوسط" سے کہا: "ہمارے پاس ایک بنیادی مسئلہ ہے جسے (حزب اللہ کا) ہتھیار کہا جاتا ہے، تو آئیے ہم اس کا مقابلہ کریں اور اس تاخیر کو روکیں۔" انہوں نے زور دے کر کہا، "ہم لبنان میں (حزب اللہ) کے یرغمال بن کر رہنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور نہ ہی ریاست (حزب اللہ) کے فیصلوں اور انتخاب میں یرغمال بننے کو تیار ہے جب کہ اس کا لبنان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔"
انہوں نے "حزب اللہ" کے ہتھیار کو "مذاکرات کی حقیقی میز پر رکھنے پر زور دیا تاکہ وہ اس سے بات کرسکیں اور بحث کی نمائشی میز نہیں،" جیسا کہ پہلے ہوا تھا۔ الجمیل نے "حزب اللہ" سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی لبنانیت کو ثابت کرے اور یہ کہ ان کا فیصلہ اس بات چیت کے ذریعے لبنانی ہے۔(...)

جمعہ - 12 صفر 1444ہجری - 09 ستمبر 2022ء شمارہ نمبر [15991]
 



امیر کویت نے قومی اسمبلی تحلیل کر دی

کویت کی قومی اسمبلی کے گزشتہ اجلاس کا منظر (کونا)
کویت کی قومی اسمبلی کے گزشتہ اجلاس کا منظر (کونا)
TT

امیر کویت نے قومی اسمبلی تحلیل کر دی

کویت کی قومی اسمبلی کے گزشتہ اجلاس کا منظر (کونا)
کویت کی قومی اسمبلی کے گزشتہ اجلاس کا منظر (کونا)

کویت کے امیر شیخ مشعل الاحمد الجابر الصباح نے نئے امیری عہد میں سیاسی بحران پھوٹنے کے بعد کل (جمعرات) شام جاری کردہ ایک امیری فرمان کے ذریعے قومی اسمبلی (پارلیمنٹ) کو تحلیل کر دیا۔ خیال رہے کہ قومی اسمبلی کے ایک نمائندے کی جانب سے "امیر کی شخصیت کے لیے نامناسب" جملے کے استعمال کرنے اور پھر نمائندوں کا اس کی رکنیت منسوخ کرنے سے انکار کرنے کے بعد حکومت نے پارلیمنٹ کے اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا تھا۔

امیری فرمان میں کہا گیا کہ پارلیمنٹ کی تحلیل "قومی اسمبلی کی جانب سے آئینی اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جان بوجھ کر اہانت آمیز نامناسب جملوں کا استعمال کرنے کی بنیاد پر آئین اور اس کے آرٹیکل 107 کا جائزہ لینے کے بعد کی گئی ہے، جیسا کہ وزیر اعظم نے وزارتی کابینہ کی منظوری کے بعد اس کی تجویز دی تھی۔"

کویتی آئینی ماہر ڈاکٹر محمد الفیلی نے "الشرق الاوسط" کو وضاحت کی کہ قومی اسمبلی کو امیری فرمان کے مطابق تحلیل کرنا "آئینی تحلیل شمار ہوتا ہے کیونکہ یہ آئین کے آرٹیکل 107 کی شرائط کے مطابق ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ تحلیل کا حکم نامہ "جائز ہے اور وجوہات حقیقی طور پر موجود ہیں۔" جہاں تک نئے انتخابات کی تاریخ طے کرنے کا تعلق ہے تو الفیلی نے کہا کہ "انتخابات سے متعلق حکم نامہ بعد میں جاری کیا جائے گا، جب کہ یہ کافی ہے کہ اس حکم نامے میں آئین کا حوالہ دیا گیا ہے اور آئین یہ تقاضہ کرتا ہے کہ اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد دو ماہ کے اندر انتخابات کروائے جائیں۔" (...)

جمعہ-06 شعبان 1445ہجری، 16 فروری 2024، شمارہ نمبر[16516]