حزب اللہ نے یونیفل کو قابض افواج کے طور پر بیان کیا ہے

اسرائیل کے ساتھ "بلیو لائن" کی سرحد کے قریب یونیفل کے اراکین کو اس ہفتے "حزب اللہ" کی طرف سے علاقے میں اپنے متعدد حامیوں کے لئے منعقد کیے گئے دورے کے دوران سیکورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے (ای پی اے)
اسرائیل کے ساتھ "بلیو لائن" کی سرحد کے قریب یونیفل کے اراکین کو اس ہفتے "حزب اللہ" کی طرف سے علاقے میں اپنے متعدد حامیوں کے لئے منعقد کیے گئے دورے کے دوران سیکورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے (ای پی اے)
TT

حزب اللہ نے یونیفل کو قابض افواج کے طور پر بیان کیا ہے

اسرائیل کے ساتھ "بلیو لائن" کی سرحد کے قریب یونیفل کے اراکین کو اس ہفتے "حزب اللہ" کی طرف سے علاقے میں اپنے متعدد حامیوں کے لئے منعقد کیے گئے دورے کے دوران سیکورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے (ای پی اے)
اسرائیل کے ساتھ "بلیو لائن" کی سرحد کے قریب یونیفل کے اراکین کو اس ہفتے "حزب اللہ" کی طرف سے علاقے میں اپنے متعدد حامیوں کے لئے منعقد کیے گئے دورے کے دوران سیکورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے (ای پی اے)
حزب اللہ نے اقوام متحدہ کی جانب سے قرارداد 2650 میں امن مشن کے مینڈیٹ میں کی گئی ترمیم کے بعد جنوبی لبنان "یونیفل" میں سرگرم بین الاقوامی افواج کے خلاف اپنے موقف میں کشیدگی پیدا کیا ہے اور یہ بھی کہا کہ بین الاقوامی افواج اس طرح قابض افواج میں تبدیل ہو رہی ہیں۔

31 اگست کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے لبنانی حکومت کی درخواست پر 2022 کے لئے قرارداد 2650 کو اپنانے کے بعد یونیفل کے مشن کو مزید ایک سال کے لیے بڑھا دیا ہے تاہم، قرارداد میں 2006 میں قرارداد 1701 کی منظوری کے بعد پہلی بار مشن کے مینڈیٹ میں ترامیم شامل ہوئیں ہیں جس میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ (یونیفل) کو اپنے سپرد کردہ کاموں کو انجام دینے کے لئے کسی سے اجازت کی ضرورت نہیں ہے اور اسے آزادانہ طور پر اپنے کام کرنے کی اجازت دی گئی ہے اور قرارداد میں تمام فریقوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنی نقل وحرکت کی آزادی کی ضمانت دیں جس میں اعلانیہ اور غیر اعلانیہ گشت کی اجازت شامل ہے۔

2006 سے نافذ العمل ہونے کے قوانین میں یہ شرط عائد کی گئی تھی کہ لبنانی فوج کو جنوب میں اپنی کارروائیوں کے دائرہ کار میں یونیفل کے گشت کے ساتھ ساتھ ہونا چاہیے اور اس سے پہلے کچھ شہریوں کو کچھ گشت کا نشانہ بنایا گیا تھا اور یہ اس بہانے سے کیا گیا کہ ان کے اراکین سائٹس کی تصویریں کھینچ رہے تھے یا گاڑیاں وہ سڑکیں عبور کر رہی تھیں جہاں انہیں داخل ہونے کی اجازت نہیں تھی۔(۔۔۔)

اتوار 14 صفر المظفر 1444ہجری -  11 ستمبر   2022ء شمارہ نمبر[15993]   



امریکی ریاست نیو جرسی میں ایک امام مسجد فائرنگ سے ہلاک

امریکی مسجد کے امام کی ویڈیو سے لی گئی ایک تصویر جنہیں نیوارک میں ایک مسجد کے باہر گولی مار دی گئی (X)
امریکی مسجد کے امام کی ویڈیو سے لی گئی ایک تصویر جنہیں نیوارک میں ایک مسجد کے باہر گولی مار دی گئی (X)
TT

امریکی ریاست نیو جرسی میں ایک امام مسجد فائرنگ سے ہلاک

امریکی مسجد کے امام کی ویڈیو سے لی گئی ایک تصویر جنہیں نیوارک میں ایک مسجد کے باہر گولی مار دی گئی (X)
امریکی مسجد کے امام کی ویڈیو سے لی گئی ایک تصویر جنہیں نیوارک میں ایک مسجد کے باہر گولی مار دی گئی (X)

امریکی ریاست نیو جرسی کے علاقے نیوارک میں ایک امریکی امام مسجد کو کل بدھ کے روز ان کی مسجد کے باہر متعدد گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ نیو یارک کے قریب واقع نیو جرسی ریاست کے حکام نے فی الحال اس جرم میں کسی نسلی محرکات کو مسترد کیا ہے۔

نیو جرسی کے اٹارنی جنرل میٹ پلاٹکن نے کہا کہ جاں بحق ہونے والے شخص کا نام حسن شریف ہے، جسے کل صبح متعدد گولیاں لگنے کے بعد ہسپتال لے جایا گیا، لیکن وہ چند گھنٹے بعد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔ (...)

کونسل آف امریکن اسلامک ریلیشنز، جو "کیئر (CAIR)" کے نام سے مشہور ہے، کی نیو جرسی برانچ کی طرف سے نشر کی گئی تصاویر میں زرد اور سبز رنگ کی دو منزلہ مسجد کے باہر تعینات پولیس کی گاڑیوں کو دکھایا گیا۔

بعد ازاں، نیو جرسی میں "کیئر (CAIR)" کی برانچ نے نیوارک مسجد کے سامنے ایک اجتماع کا اہتمام کیا اور "حسن شریف کو گولی مارنے والوں سے مطالبہ کیا کہ وہ خود کو حکام کے حوالے کر دیں۔"

"کیئر (CAIR)" نے تمام مساجد کو ہدایت کیا ہے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف تعصب اور فرقہ واریت میں حالیہ اضافہ کے پیش نظر اپنے دروازے کھلے رکھیں لیکن احتیاط کے ساتھ۔

جمعرات-22 جمادى الآخر 1445ہجری، 04 جنوری 2024، شمارہ نمبر[16473]