ماسکو لڑائی سے انکار کرنے والوں کو سخت سزائیں دے رہا ہے... اور غیر ملکیوں کو "شہریت"لینے پہ راغب کر رہا ہے

ماسکو لڑائی سے انکار کرنے والوں کو سخت سزائیں دے رہا ہے... اور غیر ملکیوں کو "شہریت"لینے پہ راغب کر رہا ہے

روس نے نائب وزیر دفاع کو برطرف کر دیا گیا... اور کیف نے تہران کے "ڈرون طیارے فراہم کرنے" کا جواب تعلقات میں کمی سے دیا
اتوار, 25 September, 2022 - 10:45
بھرتی کے قانون کے خلاف مظاہرے کرنے والے ایک شخص کو کل ماسکو میں گرفتار کیا جا رہا ہے (اے ایف پی)

روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے کل ان ترامیم پر دستخط کیے جس میں ان فوجیوں کے لیے قید کی سزا مقرر کی گئی ہیں جو "بغیر اجازت" کے دشمن کے سامنے ہتھیار ڈال دے، لڑنے سے انکار کر دے یا بھرتی کئے جانے کے مرحلے میں حکم کی نافرمانی کریں۔ انہوں نے ایک ایسے قانون پر بھی دستخط کیے جو کم سے کم ایک سال تک فوج میں لڑنے والے غیر ملکیوں کو روسی شہریت دینے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔
مزید برآں، روسی وزارت دفاع نے کل (ہفتہ کے روز) فوجی لاجسٹکس کے انچارج نائب وزیر دفاع دیمتری بلگاکوف کو ان کے عہدے سے برطرف کرنے کا اعلان کیا، ان کی جگہ میخائل میزنتسیف کو تعینات کیا جائے گا، جو نیشنل ڈیفنس ایڈمنسٹریشن سینٹر کے سربراہ تھے۔ میزنتسیف  بیرون ملک بھی معروف ہیں، کیونکہ وہ ان حملوں کے ذمہ دار ہیں جو ساحلی شہر ماریوپول پر کئے گئے اور مئی کے آخر میں روس نے اس پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔ یوکراینی فریق کے مطابق شہر کے کئی ہفتوں سے جاری محاصرے کے دوران ہزاروں شہریوں کو قتل کر دیا گیا اور شہر کے بڑے حصے کو تباہ کر دیا گیا۔ برطانیہ نے میزنتسیف کو پابندیوں کی فہرست میں بطور "ماریوپول کے قصائی" کے شامل کیا تھا۔
اسی ضمن میں، یوکرین نے ایرانی سفیر پر اعتماد واپس لینے کے ساتھ ساتھ کیف میں ایرانی سفارت خانے میں سفارتی عملے کی تعداد میں نمایاں کمی کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو کہ تہران کا روسی افواج کو ڈرون فراہم کرنے سے متعلق اطلاعات کی وجہ سے ہے۔ یوکرینی فیصلے کے جواب میں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنعانی نے کل کہا کہ تہران "مناسب جواب" دینے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ ایران نے پہلے روس کو ڈرون فراہم کرنے سے انکار کیا تھا، لیکن قدامت پسند روزنامہ "کیہان" نے ہفتے کے روز کہا کہ ایران نے "سیکڑوں مسلح ڈرونز" فروخت کیے ہیں۔(...)


اتوار - 29 صفر 1444 ہجری - 25 ستمبر 2022ء شمارہ نمبر [16007]

 


Related News



انتخاباتِ مدير

ملٹی میڈیا