تہران کردستان کو نشانہ بنا کر مظاہروں کا احاطہ کر رہا ہے

تہران کردستان کو نشانہ بنا کر مظاہروں کا احاطہ کر رہا ہے

جمعرات, 29 September, 2022 - 13:00
جنگجوؤں کو کل عراقی کردستان میں سلیمانیہ پر ایرانی بمباری کے اثرات کا معائنہ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے (اے پی اے) دائرہ میں کل بغداد کے اندر احتجاجی مظاہروں کے منظر کو دیکھا جا سکتا ہے (روئٹر)
ایرانی پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہونے کے بعد ایک نوجوان کرد خاتون کی پراسرار حالات میں موت کے بعد ملک بھر میں ہونے والے مظاہروں کو چھپانے کی ایرانی کوشش کے طور پر ایرانی پاسداران انقلاب نے عراق کے کردستان کے علاقے میں حزب اختلاف کی ایرانی کردوں جماعتوں کے مقامات پر خودکش "ڈرون" اور بیلسٹک میزائلوں کا استعمال کرکے زبردست حملہ کیا ہے۔

عراقی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، تہران کی طرف سے ہونے والے عقابی بم دھماکے میں 13 افراد ہلاک اور 58 افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ امریکہ کا کہنا ہے کہ خطے میں امریکی اہلکاروں کے درمیان کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے تاہم وہ ان اطلاعات کی تصدیق نہیں کر سکا کہ ان حملوں میں ایک امریکی ہلاک ہوا ہے اور آئی آر جی سی میں زمینی افواج کے کمانڈر محمد باکبور نے کہا ہے کہ ان کی فورسز نے عراقی کردستان کے 42 مقامات پر 73 بیلسٹک میزائل اور دسیوں ڈرون فائر کیے ہیں جن کی رینج 400 کلومیٹر تھی اور ان لوگوں کے مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے جنہیں پاسداران انقلاب کا مخالف کہا گیا ہے اور بغداد کے مطابق عراقی وفاقی حکومت اور کردستان کی علاقائی حکومت نے ایرانی بمباری کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دھماکہ خیز مواد لے جانے والے 20 ڈرونز کے ذریعے یہ حملہ کیا گیا ہے اور اس میں عراقی کردستان علاقے کے 4 علاقوں کو شامل کیا گیا ہے اور عراقی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے عراق میں ایرانی سفیر کو فوری طور پر طلب کیا ہے اور انہیں سخت الفاظ میں احتجاجی دستاویز حوالہ کیا ہے اور امریکہ، برطانیہ اور جرمنی نے بھی ایرانی بمباری کی مذمت کی ہے۔(۔۔۔)


جمعرات 04 ربیع الاول 1444ہجری -  29 ستمبر   2022ء شمارہ نمبر[16011]    


Related News



انتخاباتِ مدير

ملٹی میڈیا