یانگ یانگ کا مقابلہ کرنے کے لیے واشنگٹن، ٹوکیو اور سیول صف آرا ہو رہے ہیں

امریکہ، جاپان اور جنوبی کوریا کے وزرائے خارجہ کے معاونین کل ٹوکیو میں اپنے مذاکرات کے آغاز سے پہلے (اے بی)
امریکہ، جاپان اور جنوبی کوریا کے وزرائے خارجہ کے معاونین کل ٹوکیو میں اپنے مذاکرات کے آغاز سے پہلے (اے بی)
TT

یانگ یانگ کا مقابلہ کرنے کے لیے واشنگٹن، ٹوکیو اور سیول صف آرا ہو رہے ہیں

امریکہ، جاپان اور جنوبی کوریا کے وزرائے خارجہ کے معاونین کل ٹوکیو میں اپنے مذاکرات کے آغاز سے پہلے (اے بی)
امریکہ، جاپان اور جنوبی کوریا کے وزرائے خارجہ کے معاونین کل ٹوکیو میں اپنے مذاکرات کے آغاز سے پہلے (اے بی)

امریکہ، جاپان اور جنوبی کوریا نے کل (بروز بدھ) شمالی کوریا کے خلاف مل کر صف آرا ہوئے اور انہوں نے خبردار کیا کہ پیانگ یانگ کی طرف سے کسی بھی جوہری تجربے کی صورت میں "بے مثال سخت ردعمل" ظاہر کیا جائے گا۔
تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے معاونین نے ٹوکیو میں بات چیت کے بعد اعلان کیا کہ وہ خطے میں دفاعی اقدامات کو مضبوط کریں گے۔ جنوبی کوریا کے معاون وزیر خارجہ چو ہیون دونگ نے کہا: "ہم نے تعاون کے فروغ پر اتفاق کیا ہے... تاکہ شمالی کوریا اپنی غیر قانونی سرگرمیاں روکے اور جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے مذاکرات میں واپس آئے۔"
واشنگٹن اور اس کے اتحادیوں کا خیال ہے کہ شمالی کوریا متعدد بیلسٹک میزائل تجربات کے بعد، اب 2017 کے بعد عنقریب پہلی بار ایٹم بم کا تجربہ دوبارہ شروع کر سکتا ہے۔ امریکہ کی خاتون معاون وزیر خارجہ وینڈی شرمین نے کہا کہ "یہ رویہ لاپرواہی اور انتہائی عدم استحکام کا باعث ہے،" انہوں نے شمالی کوریا سے مطالبہ کیا کہ "مزید اشتعال انگیزی سے باز رہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ "یہاں جو کچھ بھی ہوتا ہے، جیسا کہ شمالی کوریا کا جوہری تجربہ... پوری دنیا کی سلامتی پر اثرات مرتب کرتا ہے۔" شرمین نے چین اور روس سمیت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کے نام ایک واضح پیغام میں کہا کہ: "ہم یقیناً امید کرتے ہیں کہ سلامتی کونسل میں موجود ہر ایک یہ سمجھتا ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں کا کوئی بھی استعمال دنیا کو اس طرح بدل دے گا کہ جو کسی کے خیال میں بھی نہیں ہے۔" (...)

جمعرات - 2 ربیع الثانی 1444 ہجری - 27 اکتوبر 2022ء شمارہ نمبر [16039]
 



مجھے نہیں معلوم کہ شام عرب لیگ میں واپس آئے گا یا نہیں: ابو الغیط

عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد ابو الغیط (اے پی)
عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد ابو الغیط (اے پی)
TT

مجھے نہیں معلوم کہ شام عرب لیگ میں واپس آئے گا یا نہیں: ابو الغیط

عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد ابو الغیط (اے پی)
عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد ابو الغیط (اے پی)
عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد ابو الغیط نے کہا ہے کہ "وہ نہیں جانتے کہ شام عرب لیگ میں واپس آئے گا یا نہیں۔" اور انہوں نے "بطور عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل کوئی پیغام وصول نہیں کیا کہ جس میں کہا گیا ہو کہ اس معاملے پر بات چیت کے لیے استثنائی اجلاس کا انعقاد کیا جائے۔"
انہوں نے عندیہ دیا کہ "شام کی واپسی پر اتفاق کی صورت میں، عرب وزرائے خارجہ کی سطح پر کسی بھی وقت ایک غیر معمولی اجلاس بلایا جا سکتا ہے۔"
ابو الغیط نے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں اشارہ کیا، جسے کل "الشرق الاوسط نیوز ایجنسی" نے نقل کیا کہ "انہیں حال ہی میں عمان میں منعقدہ وزارتی اجلاس کے حوالے سے اردن کے وزیر خارجہ ایمن الصفدی کا فون آیا جس میں انہیں اس اجلاس کے (اہداف اور نتائج) سے آگاہ کیا گیا" اور انہوں نے وضاحت کی کہ "عرب ممالک کے گروپ کو یہ حاصل ہے کہ وہ کسی بھی ایسے مسئلہ پر بات چیت کے لیے جمع ہوسکتے ہیں جو انہیں پریشان کرتا ہو۔" انہوں نے اپنا خیال ظاہر کیا کہ "عرب لیگ میں شام کی نشست کی بحالی میں ایک طویل وقت لگے گا اور اس کے بتدریج اقدامات ہوں گے۔"
ابو الغیط نے وضاحت کی کہ "عرب لیگ میں شام کی واپسی کا طریقہ کار عرب لیگ کے چارٹر کے مطابق ایک مخصوص قانونی تناظر رکھتا ہے۔" انہوں نے کہا کہ “کسی بھی ملک یا ممالک کے گروپ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ عرب لیگ میں شام کی نشست کی بحالی کے معاملے پر بحث کا مطالبہ کرے، خاص طور پر چونکہ اسے اس سے نکالا نہیں گیا تھا، بلکہ اس کی رکنیت کو منجمد یا معطل کر دیا گیا تھا۔"(...)

جمعرات - 14 شوال 1444 ہجری - 04 مئی 2023ء شمارہ نمبر [16228]


ایران نے ایک اور آئل ٹینکر کو قبضہ میں لے لیا

آبنائے ہرمز میں ایرانی کشتیوں سے گھرے ہوئے آئل ٹینکر کی امریکی بحریہ کی طرف سے کل تقسیم کی گئی تصاویر (رائٹرز)
آبنائے ہرمز میں ایرانی کشتیوں سے گھرے ہوئے آئل ٹینکر کی امریکی بحریہ کی طرف سے کل تقسیم کی گئی تصاویر (رائٹرز)
TT

ایران نے ایک اور آئل ٹینکر کو قبضہ میں لے لیا

آبنائے ہرمز میں ایرانی کشتیوں سے گھرے ہوئے آئل ٹینکر کی امریکی بحریہ کی طرف سے کل تقسیم کی گئی تصاویر (رائٹرز)
آبنائے ہرمز میں ایرانی کشتیوں سے گھرے ہوئے آئل ٹینکر کی امریکی بحریہ کی طرف سے کل تقسیم کی گئی تصاویر (رائٹرز)
گزشتہ روز ایرانی "پاسداران انقلاب" نے آبنائے ہرمز میں ایک اور تیل بردار بحری جہاز کو قبضے میں لیا ہے اور ایک ہفتے کے دوران یہ اپنی نوعیت کا دوسرا واقعہ ہے، جو کہ 2019 سے خلیجی پانیوں میں تجارتی بحری جہازوں کو حراست میں لینے یا ان پر حملوں میں اضافے کے تازہ صورتحال ہے۔
امریکی پانچویں بحری بیڑے نے کہا ہے کہ "پاسداران انقلاب" سے تعلق رکھنے والی کشتیوں نے آئل ٹینکر "نیوفی" کو کل صبح آبنائے ہرمز میں حراست میں لینے کے بعد بندر عباس کی بندرگاہ پر لے گئے، جب کہ اس پر پاناما کا پرچم لہرا رہا تھا اور وہ دبئی سے خلیج عمان کے قریب اماراتی بندرگاہ فجیرہ کی طرف جا رہا تھا۔
ایرانی اقدام پر پہلے ردعمل کے طور پر عدلیہ سے وابستہ "میزان" نیوز ایجنسی نے کہا کہ تہران میں پبلک پراسیکیوٹر نے اعلان کیا کہ "آئل ٹینکر کو حراست میں لینے کا اقدام ایک مدعی کی شکایت کے بعد عدالتی حکم نامے پر کیا گیا تھا۔" (...)

جمعرات - 14 شوال 1444 ہجری - 04 مئی 2023ء شمارہ نمبر [16228]


شام اور ایران کے مابین ایک طویل مدتی اسٹریٹجک معاہدہ

الاسد کل دمشق کے صدارتی محل میں رئیسی کا خیرمقدم کرتے ہوئے (اے ایف پی)
الاسد کل دمشق کے صدارتی محل میں رئیسی کا خیرمقدم کرتے ہوئے (اے ایف پی)
TT

شام اور ایران کے مابین ایک طویل مدتی اسٹریٹجک معاہدہ

الاسد کل دمشق کے صدارتی محل میں رئیسی کا خیرمقدم کرتے ہوئے (اے ایف پی)
الاسد کل دمشق کے صدارتی محل میں رئیسی کا خیرمقدم کرتے ہوئے (اے ایف پی)

گزشتہ روز ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے دمشق کے دو روزہ دورے کا آغاز کیا اور صدر بشار الاسد کی حکومت کی اپنے مخالفین کے خلاف حاصل ہونے والی کامیابیوں کی تعریف کرتے ہوئے انہیں "عظیم فتوحات" قرار دیا، اور دونوں ممالک کے درمیان روایتی اتحاد کو تقویت دینے والے اقدام کے تحت رئیسی اور اسد نے ایک طویل مدتی "اسٹریٹیجک" معاہدے پر دستخط کیے۔
رئیسی کا شامی دارالحکومت کا یہ دورہ، 2010 میں سابق صدر محمود احمدی نژاد کی حکومت کے خلاف عوامی مظاہروں کے آغاز سے مہینوں پہلے ان کے دورہ کے بعد کسی بھی ایرانی صدر کا پہلا دورہ شمار ہوتا ہے۔ رئیسی نے اسد کے ساتھ وسیع بات چیت کے دوران کہا کہ وہ "(شام کی) حکومت اور عوام کو حاصل ہونے والی عظیم فتوحات کی مبارکباد پیش کرتے ہیں۔" انہوں نے مزید کہا کہ "آپ نے دھمکیوں اور اپنے خلاف لگائی گئی پابندیوں کے باوجود فتح حاصل کی۔" انہوں نے عراق اور شام کو ان کے مطابق "تکفیری گروہوں" سے لڑنے میں مدد فراہم کرنے میں ایران کے کردار کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا: "ہم جنگ کے دور میں بھی آپ کے شانہ بشانہ کھڑے تھے اور ہم اس دور میں بھی آپ کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے، جو تعمیر نو کا دور ہے۔" (...)

جمعرات - 14 شوال 1444 ہجری - 04 مئی 2023ء شمارہ نمبر [16228]
 


کویت میں 6 جون کو "2023 کی قومی اسمبلی" کے انتخابات

کویتی کابینہ گزشتہ روز اپنے استثنائی اجلاس کے دوران (کونا)
کویتی کابینہ گزشتہ روز اپنے استثنائی اجلاس کے دوران (کونا)
TT

کویت میں 6 جون کو "2023 کی قومی اسمبلی" کے انتخابات

کویتی کابینہ گزشتہ روز اپنے استثنائی اجلاس کے دوران (کونا)
کویتی کابینہ گزشتہ روز اپنے استثنائی اجلاس کے دوران (کونا)
کویتی حکومت نے قومی اسمبلی کی آئینی تحلیل کے بعد آئندہ ماہ جون کی 6 تاریخ کو پارلیمانی انتخابات کے انعقاد کا تعین کیا ہے، کیونکہ آئینی تحلیل کی صورت میں زیادہ سے زیادہ دو ماہ کی مدت میں قومی اسمبلی کے اراکین کو منتخب کرنے کے لیے انتخابات کا انعقاد ضروری ہے۔
کویتی کابینہ نے کل (بدھ کے روز) اپنے استثنائی اجلاس کے دوران 6 جون 2023 منگل کے روز ووٹرز کو قومی اسمبلی کے ارکان منتخب کرنے کی دعوت دینے والے ایک مسودے کی منظوری دینے کے بعد اسے ولی عہد کو پیش کیا۔
کابینہ نے پولنگ کے روز چھٹی کا فیصلہ کرتے ہوئے تمام وزارتوں، سرکاری اداروں اور عام اداروں میں عام تعطیل کا اعلان کیا جب کہ پرائیویٹ سیکٹرز کے کاموں میں تعطیل کا فیصلہ متعلقہ حکام کریں گے تاکہ مفاد عامہ کو مدنظر رکھا جا سکے۔ (...)

جمعرات - 14 شوال 1444 ہجری - 04 مئی 2023ء شمارہ نمبر [16228]


ریاض سوڈان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو روکنے کے لیے اپنے رابطے تیز کر رہا ہے

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان (ڈی پی اے)
سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان (ڈی پی اے)
TT

ریاض سوڈان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو روکنے کے لیے اپنے رابطے تیز کر رہا ہے

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان (ڈی پی اے)
سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان (ڈی پی اے)
مملکت سعودی عرب نے سوڈان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو روکنے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں، اس کے علاوہ سو سے زائد ممالک کے ہزاروں شہریوں کو پورٹ سوڈان کے ذریعے نکالنے میں مدد فراہم کی ہے۔
سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کل عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد ابو الغیط اور جبوتی کے وزیر خارجہ محمود علی یوسف سے فون پر رابطے کئے اور اس دوران سوڈانی اطراف کے درمیان فوجی کشیدگی کو روکنے، تشدد کے خاتمے اور سوڈان اور اس کے عوام کی سلامتی، استحکام اور بہبود کی ضمانت فراہم دینے والے ضروری تحفظ کی فراہمی کے لیے کی جانے والی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔ جب کہ سعودی وزیر نے سوڈان کے بحران اور اسے حل کی راہوں کے بارے میں پرسوں افریقی یونین کمیشن کے چیئرمین موسی فکی کے ساتھ بھی بات چیت کی تھی۔(...)

جمعرات - 14 شوال 1444 ہجری - 04 مئی 2023ء شمارہ نمبر [16228]


یوکرین پوٹن کے جواب کا منتظر ہے

ایک ویڈیو کلپ جس میں کل کریملن کے قریب ہونے والے ایک دھماکے کو دکھایا گیا ہے (رائٹرز)... اور فریم میں پوٹن کل ماسکو کے باہر نوگوروڈ ریجن کے گورنر سے ملاقات کے دوران (ای پی اے)
ایک ویڈیو کلپ جس میں کل کریملن کے قریب ہونے والے ایک دھماکے کو دکھایا گیا ہے (رائٹرز)... اور فریم میں پوٹن کل ماسکو کے باہر نوگوروڈ ریجن کے گورنر سے ملاقات کے دوران (ای پی اے)
TT

یوکرین پوٹن کے جواب کا منتظر ہے

ایک ویڈیو کلپ جس میں کل کریملن کے قریب ہونے والے ایک دھماکے کو دکھایا گیا ہے (رائٹرز)... اور فریم میں پوٹن کل ماسکو کے باہر نوگوروڈ ریجن کے گورنر سے ملاقات کے دوران (ای پی اے)
ایک ویڈیو کلپ جس میں کل کریملن کے قریب ہونے والے ایک دھماکے کو دکھایا گیا ہے (رائٹرز)... اور فریم میں پوٹن کل ماسکو کے باہر نوگوروڈ ریجن کے گورنر سے ملاقات کے دوران (ای پی اے)

ماسکو نے اعلان کیا ہے کہ اس نے کل کریملن کو نشانہ بتاتے ہوئے دو ڈرونز طیاروں کے ذریعے صدر ولادیمیر پوٹن کو قتل کرنے کی کوشش کو ناکام بنا دیا ہے اور اس نے الزام عائد کیا ہے کہ اس کے پیچھے یوکرین کا ہاتھ ہے۔ کیف کی جانب سے اس کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کے باوجود اسے ماسکو کے ممکنہ ردعمل کا انتظار ہے اور واشنگٹن کریملن کی طرف سے جاری بیان پر شکوک و شبہات کا اظہار کر رہا ہے۔
سابق روسی صدر دمتری میدویدیف نے یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی اور ان کے کیف میں "مددگاروں" سے "چھٹکارا" حاصل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
میدویدیف، جو حالیہ وقت میں روسی سلامتی کونسل میں دوسرے نمبر پر اہم ذمہ دار شمار ہوتے ہیں، نے مبینہ حملے کے جواب میں زیلنسکی کے "خاتمے" کا مطالبہ کیا ہے۔
میدویدیف نے لکھا کہ، "آج کے دہشت گردانہ حملے کے بعد زیلنسکی کو ان کے گروہ سمیت جسمانی طور پر ختم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا۔"
دوسری جانب، زیلنسکی نے ہلسنکی میں شمالی یورپی ممالک میں اپنے ہم منصبوں کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں صحافیوں کو بیان دیا کہ، ’’ہم نے پوٹن پر حملہ نہیں کیا۔ ہم اسے عدالت پر چھوڑتے ہیں۔ ہم اپنی سرزمین پر لڑتے ہیں اور اپنے شہروں اور دیہاتوں کا دفاع کرتے ہیں۔"(...)

جمعرات - 14 شوال 1444 ہجری - 04 مئی 2023ء شمارہ نمبر [16228]
 


"غزہ کے میزائلوں" کے بعد اسرائیل میں الرٹ

اسرائیلی جیلوں میں خضر عدنان  ہلاکت کی مذمت میں چرچ آف دی نیٹیٹی کے سامنے احتجاجی مظاہرہ (وفا)
اسرائیلی جیلوں میں خضر عدنان  ہلاکت کی مذمت میں چرچ آف دی نیٹیٹی کے سامنے احتجاجی مظاہرہ (وفا)
TT

"غزہ کے میزائلوں" کے بعد اسرائیل میں الرٹ

اسرائیلی جیلوں میں خضر عدنان  ہلاکت کی مذمت میں چرچ آف دی نیٹیٹی کے سامنے احتجاجی مظاہرہ (وفا)
اسرائیلی جیلوں میں خضر عدنان  ہلاکت کی مذمت میں چرچ آف دی نیٹیٹی کے سامنے احتجاجی مظاہرہ (وفا)
مغربی کنارے میں "الجہاد" تحریک کے ایک ممتاز رہنما خضر عدنان کی اسرائیلی جیل کے اندر بھوک ہڑتال کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکت کے بعد، پٹی سے صبح داغے گئے میزائلوں کے جواب میں کل منگل کے روز اسرائیلی فوج الرٹ پوزیشن میں یہاں داخل ہوئی اور اپنے ٹینکوں کے ساتھ مشرقی غزہ شہر کے ایک مقام پر بمباری کی۔ اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں اعلان کیا کہ اس نے غزہ کی پٹی سے داغے گئے 22 راکٹوں کا جواب "ٹینک فائر" کے ذریعے دیا ہے۔
غزہ حملے کے بعد، "الجہاد" کے فوجی دستے "القدس بریگیڈز" نے اپنے جنگجوؤں کو الرٹ رہنے کا حکم دیا، دریں اثناء، تحریک کے عہدیداروں نے تحریک کے جنرل پولیٹیکل بیورو کے اجلاس میں شرکت کے لیے پٹی سے باہر اپنا سفر منسوخ کر دیا۔(...)

بدھ - 13 شوال 1444 ہجری - 03 مئی 2023ء شمارہ نمبر [16227]


لبنان بے گھر شامیوں کی رجسٹریشن کررہا ہے

لبنان بے گھر شامیوں کی رجسٹریشن کررہا ہے
TT

لبنان بے گھر شامیوں کی رجسٹریشن کررہا ہے

لبنان بے گھر شامیوں کی رجسٹریشن کررہا ہے

لبنانی وزارت داخلہ نے بے گھر ہونے والے شامیوں کے کاموں کو کنٹرول کرنے اور ان میں سے قانونی طور پر لبنان میں موجود افراد کی شناخت کے لیے نئے طریقہ کار کے تحت انہیں شمار اور رجسٹ کرنے کے لیے ایک قومی سروے مہم کا آغاز کیا ہے۔ جب کہ یہ حکومتی اقدامات سیاسی بات چیت اور لبنان میں غیر قانونی طور پر رہنے والوں کو "ملک بدر" کرنے کے مطالبات کی روشنی میں ہو رہے ہیں، علاوہ ازیں لبنانی سیاسی پارٹیاں بھی بے گھر شامیوں کو ان کے ملک واپس بھیجنے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہیں۔
کل داخلہ اور بلدیات کے وزیر بسام مولوی نے گورنرز اور جہاں بلدیات نہیں ہیں وہاں ان کے ذریعے دیہاتوں کے میئروں اور میونسپلٹیوںکے نام ایک خط بھیجا؛ کہ بے گھر ہونے والے شامیوں کی گنتی کے لیے قومی سروے مہم شروع کریں اور تمام رہائش پذیر شامیوں کی رجسٹریشن کریں، اور میئرز سے کہا گیا ہے کہ وہ کسی بھی بے گھر شامی کے اندراج سے قبل اس سے کسی قسم کے معاملے یا بیان کا اہتمام نہ کریں، اور کسی بھی بے گھر شامی کو کوئی جائیداد کرایہ پر دینے سے پہلے اس بات کی تصدیق کریں کہ وہ میونسپلٹی کے ساتھ رجسٹرڈ ہے اور وہ بنان میں قانونی طور پر رہائش پذیر ہے۔ اسی طرح پیغام میں بے گھر شامیوں کے زیر انتظام تمام اداروں اور آزاد پیشوں کا فیلڈ سروے کرنے اور ان کے پاس اپنا کام کرنے کے لیے قانونی لائسنس ہونے کی تصدیق کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔ مولوی نے وزارت انصاف کو خط بھیجا؛ امید ہے کہ وثیقہ نویس کسی بھی بے گھر شامی کے لیے اس کی رہائشی میونسپلٹی میں رجسٹریشن کے ثبوت کے بغیر
کوئی بھی دستاویز یا معاہدہ جاری نہیں کریں گے۔ (...)

بدھ - 13 شوال 1444 ہجری - 03 مئی 2023ء شمارہ نمبر [16227]
 


اردگان کے مخالفین ان پر الزام لگا رہے ہیں کہ انہوں نے کرد ووٹ حاصل کرنے کے لیے اوجلان سے جیل میں بات چیت کی

گزشتہ روز جرمنی کے جنوب میں واقع ترک شہر نورمبرگ میں اردگان کے لیے ایک انتخابی پوسٹر (ڈی پی اے)
گزشتہ روز جرمنی کے جنوب میں واقع ترک شہر نورمبرگ میں اردگان کے لیے ایک انتخابی پوسٹر (ڈی پی اے)
TT

اردگان کے مخالفین ان پر الزام لگا رہے ہیں کہ انہوں نے کرد ووٹ حاصل کرنے کے لیے اوجلان سے جیل میں بات چیت کی

گزشتہ روز جرمنی کے جنوب میں واقع ترک شہر نورمبرگ میں اردگان کے لیے ایک انتخابی پوسٹر (ڈی پی اے)
گزشتہ روز جرمنی کے جنوب میں واقع ترک شہر نورمبرگ میں اردگان کے لیے ایک انتخابی پوسٹر (ڈی پی اے)

ترک صدر رجب طیب اردگان کو اپوزیشن میں اپنے مخالفین کی جانب سے ایک نئے الزام کا سامنا ہے جس میں ان پر الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے "کرد لیبر پارٹی" کے رہنما عبداللہ اوجلان، جو جیل میں عمر قید کاٹ رہے ہیں، سے بات چیت کے لیے اپنے دو نمائندے بھیجے، تاکہ کردوں کو یہ پیغام دیا جائے کہ وہ رواں ماہ مئی کی 14 تاریخ کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں ان کے حق میں ووٹ دیں۔
حزب اختلاف کی "گڈ" پارٹی کی خاتون سربراہ میرال اکشنار نے کہا کہ اردگان نے اوجلان سے بات چیت کے لیے جیل میں ایک "عدالتی شخصیت" بھیجا، اور وہ جانتی ہیں کہ کون گیا اور کیسے گیا، انہوں نے اشارہ کیا کہ وہ ان کا نام ظاہر نہیں کریں گی کیونکہ وہ سیاسی شخصیت نہیں ہیں۔
گزشتہ ہفتے ترک صدارتی ترجمان نے "ڈیموکریٹک پیپلز پارٹی" کے قید سابق سربراہ صلاح الدین دمیرطاش کے اس اعلان کی تردید کی تھی کہ اردگان نے اوجلان سے ملاقات کے لیے ایک وفد بھیجا تھا۔ دمیرطاش نے اپنے "ٹوئٹر" اکاؤنٹ پر ایک بیان جاری کیا، جسے ان کا وکیل چلاتا ہے، اس میں انھوں نے اردگان کی "ڈیموکریٹک پیپلز پارٹی" سے دشمنی کی وجہ بتائی، جس نے اعلان کیا کہ وہ صدارت کے لیے ان کے حریف اور مخالف امیدوار کمال کلیچدار اوغلو کی حمایت کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ، "جون 2015 کے انتخابات کے دوران اردگان کی واحد فکر ترکی کا صدر بننا تھی۔" (...)

بدھ - 13 شوال 1444 ہجری - 03 مئی 2023ء شمارہ نمبر [16227]
 


ماسکو وارسا کو جنگ میں وسیع تر شمولیت سے خبردار کر رہا ہے

9 مئی کو یوم فتح کی تقریبات کی تیاری کے دوران بیلسٹک میزائل کو ریڈ اسکوائر کی طرف لے جاتے ہوئے... اور اس موقع پر دہشت گرد حملوں کا خدشہ ہے (اے ایف پی)
9 مئی کو یوم فتح کی تقریبات کی تیاری کے دوران بیلسٹک میزائل کو ریڈ اسکوائر کی طرف لے جاتے ہوئے... اور اس موقع پر دہشت گرد حملوں کا خدشہ ہے (اے ایف پی)
TT

ماسکو وارسا کو جنگ میں وسیع تر شمولیت سے خبردار کر رہا ہے

9 مئی کو یوم فتح کی تقریبات کی تیاری کے دوران بیلسٹک میزائل کو ریڈ اسکوائر کی طرف لے جاتے ہوئے... اور اس موقع پر دہشت گرد حملوں کا خدشہ ہے (اے ایف پی)
9 مئی کو یوم فتح کی تقریبات کی تیاری کے دوران بیلسٹک میزائل کو ریڈ اسکوائر کی طرف لے جاتے ہوئے... اور اس موقع پر دہشت گرد حملوں کا خدشہ ہے (اے ایف پی)

روس اور پولینڈ کے مابین تعلقات میں یوکرین تنازعے کے پس منظر میں ایک نیا تناؤ ظاہر ہوا ہے، جیسا کہ وارسا کی جانب سے چند دنوں میں روسی املاک کی ضبطگی کے بعد کل (منگل کے روز) روسی وزارت خارجہ نے پولینڈ کے ناظم الامور کو طلب کیا۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے بیان دیا کہ انہیں "روس اور پولینڈ کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی سطح پر کچھ اچھا ہونے کی امید نہیں ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ، "روس کے خوف نے پولینڈ حکام کے ذہنوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے جس کے باعث وہ روسی فیڈریشن سے متعلق ہر چیز کے بارے میں نرمی کے نقطہ نظر سے محروم ہو چکے ہیں۔" پیسکوف نے وارسا کے ساتھ تعلقات کی صورتحال میں ممکنہ اضافے پر تبصرہ کرتے ہوئے صحافیوں کو بتایا: "پولینڈ کے حکام کے حالیہ رویے کو دیکھتے ہوئے ہمارے دو طرفہ تعلقات کے لیے کچھ بھی اچھا نہیں ہے اور پولینڈ کے حکام اسی طرح کی شدت پسندانہ روش جاری رکھے ہوئے ہیں۔" (...)

بدھ - 13 شوال 1444 ہجری - 03 مئی 2023ء شمارہ نمبر [16227]