ایرانی مظاہروں کے چالسویں دن میں کریک ڈاؤن میں شدت آئی ہے

ایرانی مظاہروں کے چالسویں دن میں کریک ڈاؤن میں شدت آئی ہے

جمعرات, 27 October, 2022 - 14:15
کل مغربی ایران کے شہر کرمانشاہ میں مظاہرین کو دیکھا جا سکتا ہے (ٹویٹر)
اخلاقی پولیس کی حراست میں نوجوان خاتون مہسا امینی کی موت کے 40 دن بعد پورے ایران میں احتجاجی ریلیاں دوبارہ شروع ہو گئیں ہیں اور ایرانی کئی شہروں میں سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور دارالحکومت تہران کے درجنوں اضلاع میں بھی یہی منظر ہے اور یہ سخت حفاظتی اقدامات کی مکمل خلاف ورزی ہے۔

احتجاجی مارچ قزوین، زنجان، بابل، رشت، کرمان، اراک، ارومیہ اور کرج کے علاوہ اصفہان، شیراز، مشہد اور تبریز جیسے بڑے ایرانی شہروں میں طاقت کے ساتھ دوبارہ شروع ہو چکے ہیں اور سیکورٹی فورسز نے وسطی تہران کے کئی علاقوں میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس، گولہ بارود اور لاٹھیوں کا استعمال کیا ہے اور زیادہ تر نعروں میں ایرانی رہبر علی خامنئی کو نشانہ بنایا گیا ہے۔


"خراب حجاب" کی بنیاد پر اخلاقی پولیس کے ہاتھوں گرفتار کئے جانے کے تین دن بعد 22 سالہ امینی کی موت کی مذمت میں ایران 16 ستمبر سے مظاہروں کا مشاہدہ کر رہا ہے جس میں خواتین ایک لازمی حصہ ہیں۔


دریں اثناء ہزاروں افراد نے بدھ کو صوبہ کردستان میں مہسا امینی کے آبائی شہر سقز میں اس کی یاد میں ہونے والی ایک تقریب میں شرکت کیا ہے اور انسانی حقوق کی تنظیم "ہی نگاؤ" نے کہا ہے کہ ایرانی سیکورٹی فورسز نے امینی کی وفات کے چالیس دن بعد ہونے والی تقریب کے موقع پر احتجاجی ریلیوں پر فائرنگ اور آنسو گیس داغے ہیں اور وہاں موجود شرکاء نے "آزادی...آزادی...بہت ہو گئی ناانصافی" کے نعرے لگائے ہیں اور انہوں نے یہ بھی نعرہ لگایا کہ "کردستان... کردستان... فاشسٹوں کا قبرستان" ہے اور ویڈیوز میں کرد زبان میں "خواتین...زندگی...آزادی" کا نعرہ لگایا جا رہا ہے۔(۔۔۔)


جمعرات 02 ربیع الثانی 1444ہجری -  27 اکتوبر   2022ء شمارہ نمبر[16039]    


Related News



انتخاباتِ مدير

ملٹی میڈیا