ایران یمن جنگ کے خاتمے کے لیے کسی بھی اقدام کا خیر مقدم کرتا ہے

لاوروف اور عبداللہیان کل ماسکو میں ایک پریس کانفرنس کے دوران (رائٹرز)
لاوروف اور عبداللہیان کل ماسکو میں ایک پریس کانفرنس کے دوران (رائٹرز)
TT

ایران یمن جنگ کے خاتمے کے لیے کسی بھی اقدام کا خیر مقدم کرتا ہے

لاوروف اور عبداللہیان کل ماسکو میں ایک پریس کانفرنس کے دوران (رائٹرز)
لاوروف اور عبداللہیان کل ماسکو میں ایک پریس کانفرنس کے دوران (رائٹرز)

ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک یمن میں جنگ کے خاتمے کے لیے کسی بھی اقدام کا خیر مقدم کرتا ہے۔ انہوں نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کی بحالی کو "صحیح سمت میں ایک قدم" قرار دیتے ہوئے اپنے پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے میں ایران کی دلچسپی پر زور دیا۔
عبداللہیان نے ماسکو میں اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاوروف کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ "سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات کو آگے بڑھانے میں کچھ وقت درکار ہے، کیونکہ ابھی مسائل موجود ہیں، لیکن یہ مذاکرات کی پیش رفت میں رکاوٹ نہیں سمجھے جاتے۔" انہوں نے مزید کہا کہ تہران "یمن کے بحران سے متعلق جاری مذاکرات کا خیرمقدم کرتا ہے۔"
عبداللہیان نے "قیام امن" کے لیے کسی بھی کوشش کو آگے بڑھانے کی اہمیت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے زور دیا کہ وہ جلد ہی اپنے سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان سے ملاقات کریں گے، تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے فروغ کو تیز کیا جا سکے۔ (...)

جمعرات - 8 رمضان 1444 ہجری - 30 مارچ 2023 عیسوی شمارہ نمبر [16193]
 



"سائبر حملے" سے ایرانی پٹرول پمپس کی سروس معطل

تہران میں پٹرول پمپوں کی سروس معطل ہونے پر کاریں انتظار میں کھڑی ہیں (اے ایف پی)
تہران میں پٹرول پمپوں کی سروس معطل ہونے پر کاریں انتظار میں کھڑی ہیں (اے ایف پی)
TT

"سائبر حملے" سے ایرانی پٹرول پمپس کی سروس معطل

تہران میں پٹرول پمپوں کی سروس معطل ہونے پر کاریں انتظار میں کھڑی ہیں (اے ایف پی)
تہران میں پٹرول پمپوں کی سروس معطل ہونے پر کاریں انتظار میں کھڑی ہیں (اے ایف پی)

ایران میں ایک "سائبر حملے" نے پورے ملک میں پٹرول پمپس کی سروس کو معطل کر دیا اور ایک اسرائیلی ہیکنگ گروپ نے اس کی ذمہ داری قبول کی ہے، جب کہ یہ غزہ کی پٹی میں جنگ کے آغاز کے 70 دن بعد دونوں قدیم دشمنوں کے درمیان "شیڈو وار" کی واپسی کا تازہ اشارہ ہے۔

کل ایرانی وزارت تیل نے کہا کہ سائبر حملے میں پٹرول پمپس کمپنی کے سرورز ہیک ہونے کے بعد ملک کے 60 فیصد حصے میں ایندھن کی سپلائی روک دی گئی۔ حکام نے ایرانیوں کو یقین دلانے کی کوشش کی کہ وہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے کام کریں گے۔

دارالحکومت تہران میں بنیادی اسٹیشنز کے معطل ہونے سے قبل اتوار کو شام گئے پٹرول پمپس کی سروس معطل ہونے کی خبریں پھیلنے لگیں۔ جس پر ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے وزیر پٹرولیم جواد اوجی کو حکم دیا کہ وہ پٹرول پمپس کی سروس کو بحال کریں اور خرابی کی صورت میں بروقت لوگوں کو اطلاع دیں۔

ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے کہا کہ "پریڈیٹری اسپیرو" یا "شکاری پرندہ" نامی ایک ہیکنگ گروپ نے اس معاملے کی ذمہ داری قبول کی ہے، جیسا کہ مقامی اسرائیلی میڈیا نے بھی ذمہ داری قبول کرنے کے بارے میں ایسی ہی رپورٹیں شائع کیں ہیں۔

"رائٹرز" کے مطابق، ہیکنگ گروپ نے "ٹیلیگرام" ایپلی کیشن پر ایک بیان میں کہا: "یہ سائبر حملہ ہنگامی خدمات کو کسی بھی ممکنہ نقصان سے بچاتے ہوئے کنٹرولڈ انداز میں کیا گیا ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ یہ ڈیجیٹل حملہ "اسلامی جمہوریہ اور خطے میں اس کے ایجنٹوں کے حملوں کے جواب میں ہے۔" (…)

منگل-06 جمادى الآخر 1445ہجری، 19 دسمبر 2023، شمارہ نمبر[16457]