عراق اس وقت اس امید پر جی رہا ہے کہ وہ دیکھے سعودی - ایرانی معاہدے کے بعد عظیم علاقائی تصفیہ کس حد تک پہنچے گا اور اس کا عراقی کے اندرونی اور مختلف "سیاسی مراکز" کے درمیان مساوات پر کیا اثر پڑے گا، اور اسی کے لیے "الصدر تحریک" کے رہنما مقتدیٰ الصدر سیاست سے سبکدوش ہونے کے بعد ایک فعال کردار ادا کرتے ہوئے واپسی کے منتظر ہیں۔
عراق کے موثوق ذرائع نے بتایا ہے کہ علاقائی تصفیہ کے امکانات، محمد شیاع السوادنی کی حکومت کو "مسلح شیعہ دھڑوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو قریبی بنانے" کے لیے حوصلہ دیتے ہیں تاکہ وہ زیادہ تر ریاستی اداروں کو باہمی جوڑ سکیں۔ ذرائع نے امید ظاہر کی کہ السودانی کی جانب سے دھڑوں پر قابو پانے کے لیے "علاقائی حوصلہ افزائی" شیعہ ماحول کے اندر طاقت کے توازن میں تبدیلی کا باعث بنے گی، جو اگلے انتخابات میں ایسے اتحاد کے ساتھ شامل ہو سکتی ہے جو اسے قیس خزالی کی قیادت میں "عصائب اہل الحق" جیسی قوتوں کے ساتھ اکٹھا کرے۔
یہ تبدیلیاں "الصدر تحریک" کے رہنما پر ایک مختلف قسم کی سیاسی حقیقت مسلط کرتی ہیں، لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ ان کے پاس ایسے کارڈز ہیں کہ جو انہیں "کوآرڈینیشن فریم ورک" پر لگام ڈالنے کے قابل بنا سکیں گے، جس کے سبب انہوں نے سیاسی زندگی کو طول دیا ہوا ہے۔ (...)
جمعہ - 9 رمضان 1444 ہجری - 31 مارچ 2023ء شمارہ نمبر [16194]