اسرائیل کی شمالی سرحدوں پر شام کی جانب سے تین میزائل داغے جانے کے بعد گزشتہ روز مزید کشیدگی اور تناؤ دیکھنے میں آیا، جب کہ ان میزائلوں میں سے ایک مقبوضہ گولان کی پہاڑیوں میں خالی زمین پر گرا۔ یاد رہے کہ ان میزائلوں کا داغا جانا چند روز قبل لبنان سے اسی قسم کی بمباری کے بعد اور مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے تشدد کے پس منظر میں ہے۔
اسرائیل نے دو فلسطینی حملوں میں 3 افراد کی ہلاکت کے بعد گزشتہ گھنٹوں میں اپنی سکیورٹی فورسز کو مضبوط کر لیا ہے، اور یہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے کہ جب لبنان اور غزہ کے محاذوں پر زمینی کشیدگی کو روکنے کے لیے متعدد کوششیں کی جا رہی تھیں۔ حقائق سے یہ بات واضح ہے کہ تمام متعلقہ اطراف ایسی کشیدگی کو نہیں بڑھانا چاہتیں جس کے نتیجے میں "متعدد جہات" سے تصادم ہو۔ دوسری جانب، موقع اور اہداف ہونے کے باوجود اطراف نے حملوں کا تبادلہ نہیں کیا، جیسا کہ جمعہ کی رات تل ابیب میں ایک کار حملے میں ایک 36 سالہ اطالوی سیاح کو کُچل کر ہلاک اور دیگر سات افراد کو زخمی کر دیا گیا، اس سے قبل جمعہ ہی کے روز مغربی کنارے کے شمال مشرق میں ایک کار پر فائرنگ کے نتیجے میں دو آباد کار بہنوں کو ہلاک اور ان کی والدہ کو شدید زخمی کر دیا گیا تھا، جس پر اسرائیلی پولیس نے اعلان کیا ہے کہ سرحدی فورس کی چار ریزرو بٹالین آج سے شہروں کے وسط میں تعینات کی جائیں گی، جو کہ ان یونٹوں کے علاوہ ہیں جو پہلے ہی القدس کے علاقے اور لُود شہر میں بلائے جا چکے ہیں۔ (...)
اتوار - 18 رمضان 1444 ہجری - 09 اپریل 2023ء شمارہ نمبر [16203]