دنیا میں لبنان زندگی گزارنے کے لیے سب سے زیادہ مہنگا ہے

لبنانی لیرا "بدترین کرنسیوں" کی فہرست میں سرفہرست

لبنانی لیرا "دنیا میں بدترین" ہے (رائٹرز)
لبنانی لیرا "دنیا میں بدترین" ہے (رائٹرز)
TT

دنیا میں لبنان زندگی گزارنے کے لیے سب سے زیادہ مہنگا ہے

لبنانی لیرا "دنیا میں بدترین" ہے (رائٹرز)
لبنانی لیرا "دنیا میں بدترین" ہے (رائٹرز)

لبنان میں رہنے کے ماہانہ اخراجات پر فیلڈ سروے میں حیران کن اضافہ دکھائی دیا۔ حالیہ حساب سے ایک خاندان جو 4 افراد پر مشتمل ہو اس کے بجلی اور مواصلات جیسی عوامی خدمات کے کم سے کم اخراجات 40 ملین سے 70 ملین لیرا کے درمیان ہیں، جب کہ اوسط حقیقی آمدنی، جس میں اضافہ یا ہنگامی گرانٹس اور امداد سے تعاون کیا جاتا ہے، سرکاری اور نجی شعبوں کے ملازمین کے لیے ماہانہ 25 ملین لیرا سے زیادہ نہیں ہے۔ یاد رہے کہ کل ملازمین میں سے تقریباً 20 سے 30 فیصد اپنی تنخواہیں جزوی یا مکمل طور پر امریکی ڈالر میں وصول کرتے ہیں۔ جس سے انہیں زندگی گزارنے کی متوازن قوت حاصل ہوتی ہے۔
یہ معاشی خلاء بین الاقوامی رپورٹس کی ساکھ کی تصدیق کرتے ہیں کہ لبنان کی 80 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے اور 70 فیصد لوگوں کو بڑھتے ہوئے اخراجات سے نمٹنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔(...)

جمعرات - 22 رمضان 1444 ہجری - 13 اپریل 2023ء شمارہ نمبر [16207]
 



اسرائیل جبری نقل مکانی مسلط کرنے کے مقصد سے جنگ جاری رکھنے پر اصرار کرتا ہے: عباس

فلسطینی صدر محمود عباس (ڈی پی اے)
فلسطینی صدر محمود عباس (ڈی پی اے)
TT

اسرائیل جبری نقل مکانی مسلط کرنے کے مقصد سے جنگ جاری رکھنے پر اصرار کرتا ہے: عباس

فلسطینی صدر محمود عباس (ڈی پی اے)
فلسطینی صدر محمود عباس (ڈی پی اے)

فلسطین کے صدر محمود عباس نے کل اتوار کے روز کہا کہ اسرائیلی حکومت غزہ کی پٹی اور خاص طور پر رفح پر اپنی جنگ جاری رکھنے پر مُصر ہے، جس کا مقصد پٹی کی آبادی پر جبری نقل مکانی مسلط کرنا ہے۔

فلسطینی خبر رساں ایجنسی (وفا) نے فلسطینی قیادت کی ملاقات کے دوران عباس کے بیان کو نقل کیا، جنہوں نے کہا: "نیتن یاہو حکومت اور قابض فوج اب بھی غزہ کی پٹی کے مختلف شہروں اور خاص طور پر رفح شہر پر جارحانہ جنگ جاری رکھنے پر اصرار کر رہی ہے اور اس کا مقصد شہریوں پر جبری نقل مکانی مسلط کرنا ہے، جسےنہ تو ہم قبول کرتے ہیں اور نہ ہی ہمارے بھائی اور دنیا قبول کرتی ہے۔"

عباس نے وضاحت کی کہ فلسطینی قیادت کا اجلاس غزہ کی صورت حال پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے بلایا گیا ہے تاکہ "ان حملوں کو اور ایسے اقدامات کو روکا جا سکے جس سے فلسطینی عوام کو ان کی سرزمین اور ملک سے بے دخل کر دیا جائے۔" انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ رفح کی صورتحال "انتہائی خطرناک اور مشکل ہو چکی ہے، جس کے لیے فلسطینی قیادت کو فوری طور پر کاروائی کرنے کی ضرورت ہے۔" (...)

پیر-09 شعبان 1445ہجری، 19 فروری 2024، شمارہ نمبر[16519]