یار رہے کہ اردن کے سرکاری بیان میں واقعے سے متعلق کسی طریقہ کار یا رکن پارلیمنٹ کی گرفتاری کے پیچھے مبہم وجوہات کی پیروی کے لیے انسانی حقوق کی ٹیم کو بھیجنے کا ذکر نہیں کیا گیا۔
صورت حال کا جائزہ لینے والے ذرائع نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے بڑھتی ہوئی کشیدگی اور القدس میں انتہا پسندوں کی طرف سے اسلامی اور عیسائی مقدس مقامات کی مسلسل خلاف ورزیوں اور اسرائیل کی ہٹ دھرمی کے سبب اردن کی وزارت خارجہ کی طرف سے شدید لہجہ اختیار کرنے کے پیش نظر، اردن اور اسرائیلی فریقین کے درمیان تعلقات سفارتی اعتبار سے مزید تناؤ کا شکار ہو جائیں گے۔
اردن کے سیاسی ذرائع نے "الشرق الاوسط" کو اشارہ دیا کہ اسرائیلی فریق رکن پارلیمنٹ کے معاملے پر سخت موقف اپنا سکتا ہے، خاص طور پر حالیہ پارلیمانی کشیدگی کی روشنی میں کہ جب عمان میں اسرائیلی سفیر کو ملک بدر کرنے کے لیے اردن کی حکومت پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ علاوہ ازیں اسرائیلی حکومت رکن پارلیمنٹ کے خلاف مبینہ کیس کی نوعیت اور سائز کے بہانے اپنا موقف سخت کر سکتی ہے، کیونکہ وہ ملک سے باہر ہونے کے سبب اپنا آئینی استثنیٰ کھو چکے ہیں۔(...)
پیر - 4 شوال 1444 ہجری - 24 اپریل 2023ء شمارہ نمبر [16218]