ماسکو "جوہری معاہدے" کی بحالی میں ناکامی کا ذمہ دار مغرب کو ٹھہرا رہا ہے

ہمیں مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے نئے آئیڈیاز ملے ہیں: عبداللہیان

لاوروف کل نیویارک میں ایک پریس کانفرنس کے دوران (اے ایف پی)
لاوروف کل نیویارک میں ایک پریس کانفرنس کے دوران (اے ایف پی)
TT

ماسکو "جوہری معاہدے" کی بحالی میں ناکامی کا ذمہ دار مغرب کو ٹھہرا رہا ہے

لاوروف کل نیویارک میں ایک پریس کانفرنس کے دوران (اے ایف پی)
لاوروف کل نیویارک میں ایک پریس کانفرنس کے دوران (اے ایف پی)

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کل 2015 کے ایرانی جوہری معاہدے کو بحال کرنے کے مواقع ضائع ہونے سے خبردار کیا اور مذاکرات میں ناکامی کا ذمہ دار مغرب کو ٹھہرایا۔
لاوروف نے کل نیویارک میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا: "ایران کے جوہری پروگرام پر مشترکہ جامع ایکشن پلان کو دوبارہ شروع کرنے کے موقع کو ضائع کرنا ایک سنگین غلطی ہوگی۔" انہوں نے "مغرب کے اقدامات" کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا "اس مرحلے میں، معاہدے کی بحالی کا انحصار ایران، روس یا چین پر نہیں ہے... جنہوں نے اسے تباہ کیا انہی کو چاہیے کہ اب وہ اسے دوبارہ زندہ کرے۔"
لاوروف نے "نئی مطالبات پر تنقید کی، جن کا معاہدے کے پہلے مسودے میں ذکر نہیں کیا گیا تھا۔" انہوں نے مزید کہا کہ "فرض کریں کہ اسے دوبارہ شروع کرنے کا معاہدہ بہت پہلے طے پایا گیا ہوتا، لیکن اب، یورپی ممالک کسی وجہ سے اپنا جوش کھو چکے ہیں اور امریکی حکام مختلف چینلز کے ذریعے یہ کہتے ہیں (...) اسے اب کوئی اور آپشن تلاش کرنا ہوگی۔" (...)

جمعرات - 7 شوال 1444 ہجری - 27 اپریل 2023ء شمارہ نمبر [16221]
 



آسٹریلیا نے لبنان میں اسرائیلی حملے میں اپنے 2 شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔

اسرائیل کی سرحد پار جاری کشیدگی کے دوران اسرائیلی بمباری کے بعد جنوبی لبنان میں دھواں اٹھ رہا ہے (اے ایف پی)
اسرائیل کی سرحد پار جاری کشیدگی کے دوران اسرائیلی بمباری کے بعد جنوبی لبنان میں دھواں اٹھ رہا ہے (اے ایف پی)
TT

آسٹریلیا نے لبنان میں اسرائیلی حملے میں اپنے 2 شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔

اسرائیل کی سرحد پار جاری کشیدگی کے دوران اسرائیلی بمباری کے بعد جنوبی لبنان میں دھواں اٹھ رہا ہے (اے ایف پی)
اسرائیل کی سرحد پار جاری کشیدگی کے دوران اسرائیلی بمباری کے بعد جنوبی لبنان میں دھواں اٹھ رہا ہے (اے ایف پی)

آسٹریلیا نے آج جمعرات کے روز تصدیق کی کہ اس کے دو شہری جنوبی لبنان کو نشانہ بنانے والے اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے ہیں۔ اس نے نشاندہی کی کہ وہ "حزب اللہ" کے ان دعوں کی تحقیقات کر رہا ہے کہ ان میں سے ایک کا تعلق مسلح گروپ سے تھا۔

آسٹریلیا کے قائم مقام وزیر خارجہ مارک ڈریفس نے ایک پریس کانفرنس میں کہا: "ہم اس خاص شخص سے متعلق تحقیقات جاری رکھیں گے جس کے بارے میں حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس سے منسلک تھا۔"

انہوں نے مزید کہا: "حزب اللہ نے اعلان کیا ہے کہ یہ آسٹریلوی اس کے جنگجوؤں میں سے ایک ہے، جس پر ہماری تحقیقات جاری ہیں۔"

ڈریفس نے نشاندہی کی کہ "حزب اللہ آسٹریلیا میں درج شدہ ایک دہشت گرد تنظیم ہے،" اور کسی بھی آسڑیلوی شہری کے لیے اسے مالی مدد فراہم کرنا یا اس کی صفوں میں شامل ہو کر لڑنا جرم شمار پوتا ہے۔

خیال رہے کہ یہ اسرائیلی حملہ منگل کی شام دیر گئے ہوا جس میں بنت جبیل قصبے میں ایک گھر کو نشانہ بنایا گیا، جب کہ اس قصبے میں ایرانی حمایت یافتہ "حزب اللہ" گروپ کو وسیع سپورٹ حاصل ہے۔

ڈریفس نے کہا کہ آسٹریلوی حکومت نے اس حملے کے بارے میں اسرائیل سے رابطہ کیا تھا، لیکن انہوں نے اس دوران ہونے والی بات چیت کا ظاہر کرنے سے انکار کر دیا۔

انہوں نے لبنان میں آسٹریلوی باشندوں پر زور دیا کہ وہ ملک چھوڑ دیں کیونکہ ابھی بھی تجارتی پروازوں کی آپشن موجود ہے۔

یاد رہے کہ اکتوبر میں غزہ میں اسرائیل اور تحریک "حماس" کے مابین جنگ شروع ہونے کے بعد سے "حزب اللہ" لبنان کی جنوبی سرحد کے پار اسرائیل کے ساتھ تقریباً روزانہ کی بنیاد پر فائرنگ کا تبادلہ کرتی ہے۔

جمعرات-15 جمادى الآخر 1445ہجری، 28 دسمبر 2023، شمارہ نمبر[16466]