بیجنگ کی "واشنگٹن اعلامیہ" پر کڑی تنقید

امریکہ اور جنوبی کوریا پر خطے میں کشیدگی بڑھانے کا الزام لگا رہا ہے

گزشتہ روز کانگریس کے سامنے جنوبی کوریا کے صدر کی تقریر کا منظر (اے ایف پی)
گزشتہ روز کانگریس کے سامنے جنوبی کوریا کے صدر کی تقریر کا منظر (اے ایف پی)
TT

بیجنگ کی "واشنگٹن اعلامیہ" پر کڑی تنقید

گزشتہ روز کانگریس کے سامنے جنوبی کوریا کے صدر کی تقریر کا منظر (اے ایف پی)
گزشتہ روز کانگریس کے سامنے جنوبی کوریا کے صدر کی تقریر کا منظر (اے ایف پی)

بیجنگ نے واشنگٹن پر جزیرہ نما کوریا میں امن کو نقصان پہنچانے اور کشیدگی بڑھانے کا الزام لگایا جو کہ امریکی صدر جو بائیڈن اور ان کے جنوبی کوریا کے ہم منصب یون سوک یول کے اعلان کے ایک روز بعد ہے جس میں انہون نے کہا کہ شمالی کوریا کی طرف سے کوئی بھی جوہری حملہ "اس کی حکومت کے خاتمے کا باعث بنے گا۔"
چین نے "واشنگٹن اعلامیہ" میں امریکہ-جنوبی کوریا کے مشترکہ موقف پر کڑی تنقید کی، اور نشاندہی کی کہ اس سے "تناؤ، تصادم اور دھمکیوں کو جان بوجھ کر ابھارا گیا ہے۔" چینی وزارت خارجہ کی خاتون ترجمان ماؤ ننگ نے کہا کہ یہ اعلامیہ تعین کرتا ہے کہ "تمام فریقوں کو جزیرہ نما کوریا کے اصل مسئلے کا مقابلہ کرتے ہوئے اس کے پرامن حل کو فروغ دینے کے لیے تعمیری کردار ادا کرنا چاہیے۔"
بیجنگ نے واشنگٹن پر "علاقائی سلامتی کو نظر انداز کرنے" اور "تناؤ پیدا کرنے کے لیے جزیرہ نما کوریا کے مسئلے کا استحصال کرنے پر اس کے اصرار" کا الزام لگایا۔ (...)

جمعہ - 8 شوال 1444 ہجری - 28 اپریل 2023ء شمارہ نمبر [16222]
 



پاکستان میں انتخابات مکمل... اور نواز شریف کی قیادت میں مخلوط حکومت کے امکانات

نواز شریف کل جمعرات کو لاہور میں اپنا ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے (اے پی)
نواز شریف کل جمعرات کو لاہور میں اپنا ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے (اے پی)
TT

پاکستان میں انتخابات مکمل... اور نواز شریف کی قیادت میں مخلوط حکومت کے امکانات

نواز شریف کل جمعرات کو لاہور میں اپنا ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے (اے پی)
نواز شریف کل جمعرات کو لاہور میں اپنا ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے (اے پی)

پاکستان میں کل عام انتخابات مکمل ہوئے، جب کہ حکومت کی طرف سے انتخابات کے عمل کے دوران سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر موبائل فون سروس منقطع کرنے کے فیصلے کے باوجود بھی تشدد اور دھاندلی کے شبہات سے پاک نہیں تھے۔

مبصرین نے توقع کی کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی قید اور ان کی پارٹی "تحریک انصاف" اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان مباحثوں کے زیر سایہ کمزور انتخابی مہم کے بعد رائے شماری میں شرکت کرنے والوں کی شرح میں کمی دیکھی جائے گی، جیسا کہ 128 ملین ووٹرز نے وفاقی پارلیمنٹ کے لیے 336 نمائندوں کو اور صوبائی اسمبلیوں کو منتخب کرنا تھا۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف کی قیادت میں ان کی پارٹی "پاکستان مسلم لیگ ن" کو سب سے خوش قسمت شمار کیا جاتا ہے، لیکن اگر وہ اکثریت حاصل نہیں کر پاتے ہیں، جس کا امکان ہے، تو وہ ایک یا زیادہ شراکت داروں کے ساتھ مل کر اتحاد کے ذریعے اقتدار سنبھال لیں گے، جس میں لالاول بھٹو زرداری کی زیر قیادت ان کی خاندانی جماعت "پاکستان پیپلز پارٹی" بھی شامل ہے۔

مبصرین نے کل کے انتخابات کو "صورتحال بدل کر"  2018 کے انتخابات سے تشبیہ دی ہے، کیونکی اس وقت نواز شریف کو متعدد مقدمات میں بدعنوانی کے الزام میں سزا ہونے کی وجہ سے امیدواری سے باہر کر دیا گیا اور عمران خان فوج کی حمایت اور عوامی حمایت کی بدولت اقتدار میں آئے۔ دوسری جانب، نواز شریف نے لاہور میں اپنا ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے اس بات سے انکار کیا کہ انہوں نے اقتدار میں واپسی کے لیے فوج کے ساتھ کوئی معاہدہ کیا ہے۔ (...)

جمعہ-28 رجب 1445ہجری، 09 فروری 2024، شمارہ نمبر[16509]