زیلنسکی "روسی دہشت کی رات" کی مذمت کر رہے ہیں

شوئیگو واشنگٹن پر ایک وسیع فوجی تصادم کی کوشش کرنے کا الزام لگا رہے ہیں

امدادی کارکنان کل کیف کے جنوب میں اومان شہر میں مبے سے زندہ بچ جانے والوں کو تلاش کر رہے ہیں (اے ایف پی)
امدادی کارکنان کل کیف کے جنوب میں اومان شہر میں مبے سے زندہ بچ جانے والوں کو تلاش کر رہے ہیں (اے ایف پی)
TT

زیلنسکی "روسی دہشت کی رات" کی مذمت کر رہے ہیں

امدادی کارکنان کل کیف کے جنوب میں اومان شہر میں مبے سے زندہ بچ جانے والوں کو تلاش کر رہے ہیں (اے ایف پی)
امدادی کارکنان کل کیف کے جنوب میں اومان شہر میں مبے سے زندہ بچ جانے والوں کو تلاش کر رہے ہیں (اے ایف پی)
کل یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے یوکرین کے شہروں کو روسی میزائل حملوں سے نشانہ بنائے جانے کی رات کو "روسی دہشت کی رات" قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی۔ روس کی جانب سے تقریباً دو ماہ میں پہلے بڑے فضائی حملے کے دوران جمعرات - جمعہ کی درمیانی رات کی جانے والی روسی بمباری کے نتیجے میں کم سے کم 22 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ جب کہ فروری 2022 میں یوکرین پر حملہ کرنے کے بعد یہ میزائل اور ڈرون حملوں کے سلسلے میں تازہ ترین روسی حملے شمار ہوتے ہیں جو کہ ایک ایسے وقت میں ہے کہ جب کیف روسی افواج کے زیر قبضہ اراضی کے دوبارہ حصول کی کوشش میں جوابی حملہ کرنے کی تیاری کر رہا تھا۔ یوکرینی صدر نے کہا کہ "یوکرین اور دنیا کو روسی دہشت گردی کا مناسب جواب دینا چاہیے۔"
دوسری جانب، یوکرین کے وزیر دفاع اولیکسی ریزنکوف نے اعلان کیا کہ موسم بہار کے دوران طے شدہ یوکرینی حملے کی تیاریاں مکمل ہونے کے قریب ہیں۔ ریزنکوف نے کل کیف میں کہا: "عمومی طور پر، ہم پہلے سے ہی کافی حد تک تیار ہیں." ​​(...)
 

ہفتہ - 9 شوال 1444 ہجری - 29 اپریل 2023ء شمارہ نمبر [16223]
 



آسٹریلیا نے لبنان میں اسرائیلی حملے میں اپنے 2 شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔

اسرائیل کی سرحد پار جاری کشیدگی کے دوران اسرائیلی بمباری کے بعد جنوبی لبنان میں دھواں اٹھ رہا ہے (اے ایف پی)
اسرائیل کی سرحد پار جاری کشیدگی کے دوران اسرائیلی بمباری کے بعد جنوبی لبنان میں دھواں اٹھ رہا ہے (اے ایف پی)
TT

آسٹریلیا نے لبنان میں اسرائیلی حملے میں اپنے 2 شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔

اسرائیل کی سرحد پار جاری کشیدگی کے دوران اسرائیلی بمباری کے بعد جنوبی لبنان میں دھواں اٹھ رہا ہے (اے ایف پی)
اسرائیل کی سرحد پار جاری کشیدگی کے دوران اسرائیلی بمباری کے بعد جنوبی لبنان میں دھواں اٹھ رہا ہے (اے ایف پی)

آسٹریلیا نے آج جمعرات کے روز تصدیق کی کہ اس کے دو شہری جنوبی لبنان کو نشانہ بنانے والے اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے ہیں۔ اس نے نشاندہی کی کہ وہ "حزب اللہ" کے ان دعوں کی تحقیقات کر رہا ہے کہ ان میں سے ایک کا تعلق مسلح گروپ سے تھا۔

آسٹریلیا کے قائم مقام وزیر خارجہ مارک ڈریفس نے ایک پریس کانفرنس میں کہا: "ہم اس خاص شخص سے متعلق تحقیقات جاری رکھیں گے جس کے بارے میں حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس سے منسلک تھا۔"

انہوں نے مزید کہا: "حزب اللہ نے اعلان کیا ہے کہ یہ آسٹریلوی اس کے جنگجوؤں میں سے ایک ہے، جس پر ہماری تحقیقات جاری ہیں۔"

ڈریفس نے نشاندہی کی کہ "حزب اللہ آسٹریلیا میں درج شدہ ایک دہشت گرد تنظیم ہے،" اور کسی بھی آسڑیلوی شہری کے لیے اسے مالی مدد فراہم کرنا یا اس کی صفوں میں شامل ہو کر لڑنا جرم شمار پوتا ہے۔

خیال رہے کہ یہ اسرائیلی حملہ منگل کی شام دیر گئے ہوا جس میں بنت جبیل قصبے میں ایک گھر کو نشانہ بنایا گیا، جب کہ اس قصبے میں ایرانی حمایت یافتہ "حزب اللہ" گروپ کو وسیع سپورٹ حاصل ہے۔

ڈریفس نے کہا کہ آسٹریلوی حکومت نے اس حملے کے بارے میں اسرائیل سے رابطہ کیا تھا، لیکن انہوں نے اس دوران ہونے والی بات چیت کا ظاہر کرنے سے انکار کر دیا۔

انہوں نے لبنان میں آسٹریلوی باشندوں پر زور دیا کہ وہ ملک چھوڑ دیں کیونکہ ابھی بھی تجارتی پروازوں کی آپشن موجود ہے۔

یاد رہے کہ اکتوبر میں غزہ میں اسرائیل اور تحریک "حماس" کے مابین جنگ شروع ہونے کے بعد سے "حزب اللہ" لبنان کی جنوبی سرحد کے پار اسرائیل کے ساتھ تقریباً روزانہ کی بنیاد پر فائرنگ کا تبادلہ کرتی ہے۔

جمعرات-15 جمادى الآخر 1445ہجری، 28 دسمبر 2023، شمارہ نمبر[16466]