سعودی تعلیمی نصاب میں تاریخی تبدیلیاں

سعودی وزیر تعلیم کو کل ریاض میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے (الشرق الاوسط)
سعودی وزیر تعلیم کو کل ریاض میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے (الشرق الاوسط)
TT

سعودی تعلیمی نصاب میں تاریخی تبدیلیاں

سعودی وزیر تعلیم کو کل ریاض میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے (الشرق الاوسط)
سعودی وزیر تعلیم کو کل ریاض میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے (الشرق الاوسط)
سعودی عرب نے گزشتہ روز بہترین عالمی تجربات اور مملکت کے وژن 2030 کے اہداف کو حاصل کرنے کے مطابق اپنے تعلیمی نظام میں تاریخی تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے جس میں نئے مطالعاتی مواد کو اپنانا اور مختصر چھٹیوں والے تھری سیمسٹر سسٹم میں شفٹ کرنا شامل ہے۔

سعودی وزیر تعلیم ڈاکٹر حمد آل شیخ نے گزشتہ روز ریاض میں وزارت کے ہیڈ کوارٹر میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ وزارت تعلیم میں دو سال سے جاری کام اور خصوصی ٹیموں کے ذریعہ کیے گئے محتاط مطالعات کی بنیاد پر ایک اہم نتیجے پر پہنچا گیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ موجودہ نظام تعلیم کو حقیقی اور گہری ترقی کی ضرورت ہے اور ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ موازنہ کرنے سے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ تعلیم کے اصل ایام کی تعداد میں مملکت کے تعلیمی نظام اور ان ممالک کے مابین کافی فرق ہے۔

وزیر نے مزید کہا کہ تعلیمی سیشن دو کی بجائے 3 سمسٹر پر مشتمل ہوگا ، جس میں ہر سمسٹر میں 13 ہفتوں پر مشتمل ہوگا اور ہر سمسٹر میں 13 ہفتے ہوں گے اور نئے تعلیمی سیشن میں تعلیمی سال کے دوران 12 چھٹیاں شامل ہیں بشرطیکہ کہ ہر سمسٹر میں ہفتے کے آخر میں لمبی چھٹی ہوگی اور اسی طرح ہر سمسٹر کے درمیان میں بھی چھٹی ہوگی۔(۔۔۔)

جمعرات 15 شوال المعظم 1442 ہجرى – 27 مئی 2021ء شماره نمبر [15521]