گزشتہ روز (جمعرات) خرطوم میں مشتعل احتجاجی جلوس کا آغاز کیا گیا ہے جس میں ہزاروں افراد نے دھرنے کے قتل عام کی دوسری برسی کی یاد میں شرکت کی ہے اور مظاہرین مختلف جگہوں میں نکلے ہیں جیسے کہ وزرا کونسل کے سامنے اور پبلک پراسیکیوشن کی عمارت کے قریب جمع ہوئے ہیں اور دو سال قبل 3 جون کو دھرنے کو ختم کرنے کے دوران پر امن مظاہرین کے قاتلوں کے خلاف انصاف اور انتقام لینے کا مطالبہ بھی کیا ہے جبکہ دیگر مظاہرین نے عبوری حکومت کا تختہ الٹنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
سابقہ عبوری فوجی کونسل نے وسطی خرطوم میں اپنی قیادت کے سامنے مشہور دھرنے کو 3 جون 2019 کو منتشر کرنے کے لئے حد سے زیادہ تشدد کا استعمال کیا تھا جس کے نتیجے میں دسیوں لوگ ہلاک اور سیکڑوں لوگ زخمی ہوئے تھے اور جبرا غائب کرنے اور عصمت دری کے واقعات کی بھی اطلاع ملی ہے اور کچھ مظاہرین کو پتھر باندھ کر دریائے نیل میں بھی پھینکا گیا ہے۔(۔۔۔)
جمعہ 23 شوال المعظم 1442 ہجرى – 04 جون 2021ء شماره نمبر [15529]